عکسی سایہ
محبت اور فن جب ایک ہی وجود میں ضم ہو جائیں تو وقت کا پہیہ تھم سا جاتا ہے۔ ماہین کے لیے اس کے شوہر آرٹسٹ جہانگیر کا اسٹوڈیو محض ایک کمرہ نہیں بلکہ ان کے درمیان ایک 'عبادت گاہ' تھا۔ جہانگیر کا کینوس پر رنگ بھرنے کا انداز ایسا تھا کہ لگتا تھا تصویر سانس لے رہی ہے۔
جہانگیر کی وفات کے بعد اسٹوڈیو میں ایک عجیب سی خاموشی ڈیرے ڈال گئی تھی۔ وہ کینوس، وہ برش، اور ان پر جمی گرد۔۔۔ سب کچھ جیسے کسی کی واپسی کی راہ تک رہے تھے۔ ماہین اکثر رات گئے اسٹوڈیو کا دروازہ کھولتی جہاں برش اور رنگوں کی وہ مانوس مہک اب بھی موجود تھی۔
ایک رات جب بارش تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی ماہین نے برش اٹھایا۔ اس کا ارادہ ایک ادھوری پینٹنگ مکمل کرنے کا تھا جو جہانگیر کی آخری نشانی تھی۔ جیسے ہی اس نے پہلا اسٹروک لگایا کمرے کا درجہ حرارت بدل گیا۔ ہوا میں وہی مخصوص 'آئل پینٹ' کی تیز خوشبو پھیل گئی جو ہمیشہ جہانگیر کے کام کرتے وقت ہوا کرتی تھی۔
ماہین کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ ایک ٹھنڈی مگر مانوس سی چھون اس کے ہاتھ پر محسوس ہوئی جیسے کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر برش کی سمت درست کر رہا ہو۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں مگر خوف کے بجائے ایک عجیب سی تسکین تھی۔
"تمہیں یہ رنگ یہاں نہیں وہاں لگانا چاہیے تھا ماہین۔۔۔"
آواز دھیمی تھی جیسے کسی دور کے گنبد سے آ رہی ہو۔ یہ جہانگیر ہی تھا۔
ماہین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس رات اس نے برش نہیں چلایا بلکہ جہانگیر کے سائے کو اپنے ہاتھوں سے کام مکمل کرتے دیکھا۔ وہ ایک مکمل تصویر بن چکی تھی۔ صبح تک ماہین اسٹوڈیو کے فرش پر بے سدھ پڑی تھی۔
جب وہ بیدار ہوئی تو کینوس پر موجود شاہکار کی چمک اسے اپنی حقیقت پر یقین کرنے سے روک رہی تھی۔ لیکن اس کے بعد سے ماہین کی زندگی بدل گئی۔ ہر شام وہ اسٹوڈیو جاتی اور ہر شام وہی خوشبو اور وہی سایا اس کا انتظار کرتا۔ لوگ کہتے کہ ماہین کمال کی پینٹر بن گئی ہے لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ اس کے اپنے ہاتھ نہیں بلکہ ایک روح کا ادھورا سفر تھا جو اس کے ذریعے مکمل ہو رہا تھا۔
کچھ ماہ بعد جب اسٹوڈیو کا دروازہ بہت دیر تک نہ کھلا تو ملازمہ نے اندر جھانکا۔ کمرے میں خوشبو کا ایک طوفان تھا۔ ماہین آرام کرسی پر نیم دراز تھی چہرے پر ایک ایسی پرسکون مسکراہٹ تھی جو زندگی میں کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
کینوس پر ایک نئی پینٹنگ مکمل تھی۔۔۔ جس میں ماہین اور جہانگیر ہاتھ تھامے ایک ایسے افق کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں رنگ ختم ہوتے ہیں اور روشنی شروع ہوتی ہے۔ کسی نے نہیں جانا کہ وہ پینٹنگ ماہین نے بنائی تھی یا کسی اور دنیا سے آئے کسی فنکار نے اسے اپنے ساتھ جانے کا بلاوا بھیجا تھا۔
فن مکمل ہو چکا تھا اور فنکار اپنے شاہکار کے ساتھ جا چکا تھا۔
آہل عبداللہ
.png)