شام
شام ہمیشہ غریبوں کے گھروں میں پہلے اترتی ہے۔
امیر آدمی کے گھر میں شام پردوں کے پیچھے آتی ہے، بلب جلتے ہیں، چائے کی خوشبو اٹھتی ہے اور بچے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
غریب کے گھر میں شام چولہے کے سامنے بیٹھتی ہے اور پوچھتی ہے:
"آج کیا پکا ہے؟"
زینب کے گھر میں آج بھی کچھ نہیں پکا تھا۔
وہ دروازے پر بیٹھی سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
سڑک پر لوگ گزر رہے تھے۔
ایک آدمی سائیکل پر سبزیاں لے جا رہا تھا۔ ایک عورت اپنے بچے کا ہاتھ پکڑے جا رہی تھی۔ دو لڑکے ہنس رہے تھے۔
سب کے پاس کہیں نہ کہیں جانے کی وجہ تھی۔
زینب کے پاس صرف انتظار تھا۔
اس کا شوہر تین دن سے گھر نہیں آیا تھا۔
پہلے دن اس نے سوچا، کام میں پھنس گیا ہوگا۔
دوسرے دن اس نے پڑوسی سے فون کروایا۔
فون بند تھا۔
تیسرے دن اس نے تھانے جانے کا سوچا، پھر رک گئی۔
اسے معلوم تھا کہ غریب آدمی کی گمشدگی رپورٹ میں بھی غریب ہی رہتی ہے۔
شام گہری ہو رہی تھی۔
زینب نے دروازے سے اٹھ کر چولہے کے پاس رکھا خالی برتن دیکھا۔
اس کی چھوٹی بیٹی نے پوچھا:
"امی، ابو کب آئیں گے؟"
زینب نے کہا:
"بس آتے ہوں گے۔"
بچی نے پھر پوچھا:
"کھانا بھی لائیں گے؟"
زینب نے اس بار جواب نہیں دیا۔
بچی خاموش ہو گئی۔
باہر مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔
زینب نے دوپٹہ سر پر رکھا اور نماز کے لیے کھڑی ہو گئی۔
سجدے میں جا کر اس نے کچھ نہیں مانگا۔
بس رونے لگی۔
نماز ختم ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ گھبرا کر اٹھی۔
"کون؟"
باہر سے آواز آئی:
"میں ہوں۔"
وہ دروازہ کھول کر کھڑی رہ گئی۔
اس کا شوہر سامنے تھا۔
کپڑے گرد سے بھرے ہوئے، چہرہ زرد، آنکھیں تھکی ہوئی۔
زینب نے کچھ نہیں پوچھا۔
بس اسے دیکھتی رہی۔
وہ اندر آیا اور زمین پر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے جیب سے ایک کاغذ نکالا۔
"یہ ملا تھا۔"
زینب نے کاغذ کھولا۔
اس پر اسپتال کا نام لکھا تھا۔
وہ پڑھ نہ سکی۔
"کیا ہوا ہے؟"
شوہر نے نظریں جھکا لیں۔
"امی مر گئی ہیں۔"
زینب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
"تمہاری امی؟"
اس نے سر ہلا دیا۔
"تین دن پہلے۔"
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
بچی اندر سے بھاگتی ہوئی آئی۔
"ابو!"
اس نے باپ سے لپٹ کر پوچھا:
"میرے لیے کیا لائے ہو؟"
باپ نے جیب ٹٹولی۔
خالی تھی۔
بچی نے پھر بھی اس کی جیب میں ہاتھ ڈال دیا۔
کچھ نہ ملا۔
وہ ہنس کر بولی:
"کوئی بات نہیں ابو، کل لے آنا۔"
باپ نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔
زینب چولہے کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
اس نے خالی برتن میں پانی ڈالا اور چولہا جلا دیا۔
شوہر نے حیرت سے پوچھا:
"کیا کر رہی ہو؟"
وہ بولی:
"شام ہو گئی ہے۔"
"تو؟"
ہماری پچھلی تحریر "ایک شہر سے دوسرے شہر تک" ضرور پڑھیں
"بچی کو لگے گا کھانا پک رہا ہے۔"
چولہے کی آگ جل رہی تھی۔
برتن میں صرف پانی ابل رہا تھا۔
اور اس چھوٹے سے گھر میں پہلی بار کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ رات کب آئے گی۔
سب جانتے تھے۔
رات تو آ ہی جاتی ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ
سویرا کس کے لیے آئے گا؟
