فرض کرو: ہجر اور بے بسی کی خوبصورت نظم از حافظہ علی اکبر
حفظہ علی اکبر
September 23, 2026
فرض کرو کبھی میں مل جاؤں سرِ راہ تمہیں تو اجنبی مسافر کی طرح گزر جانا۔ ہوا کے دوش پر اڑتے میرے آنچل سے اپنی نگاہیں چرا…
فرض کرو کبھی میں مل جاؤں سرِ راہ تمہیں تو اجنبی مسافر کی طرح گزر جانا۔ ہوا کے دوش پر اڑتے میرے آنچل سے اپنی نگاہیں چرا…
رشتہ حفظہ علی اکبر ( گجرات) میں اکثر سوچتی ہوں، جب تمہارا رشتہ طے ہوگا نا، تب ہمیں بھی لڑکے والوں کو تمہاری تصاویر دکھ…