انتظار کے درمیان
اس کی عمر پچیس برس تھی۔یہ وہ عمر تھی جس میں لوگ آدمی سے اس کے مستقبل کے بارے میں پوچھتے ہیں، اور وہ مسکرا کر کوئی ایسا جواب دے دیتا ہے جس سے پوچھنے والے کو تسلی ہو جائے۔
وہ بھی یہی کرتا تھا۔
کوئی پوچھتا، کیا کر رہے ہو آج کل؟ تو وہ کہتا، بس، کچھ کام دیکھ رہا ہوں۔ کوئی کہتا، اب تو تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہو جانا چاہیے، تو وہ سر ہلا دیتا۔ اسے معلوم تھا کہ سامنے والا غلط نہیں کہہ رہا، مگر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ زندگی ہمیشہ سمجھانے والوں کی مرضی سے نہیں چلتی۔
ہمارے پچھلی تحریر "رہائی "ا ضرور پڑھیں
وہ کوشش کر چکا تھا۔ کئی راستوں پر چل کر دیکھ چکا تھا۔ کہیں کام نہ بنا، کہیں حالات آڑے آئے، کہیں اپنی ہی ہمت جواب دے گئی۔ اب اس کے پاس دن تو تھے، مگر دن گزارنے کی کوئی ایسی وجہ نہیں تھی جسے وہ دوسروں کے سامنے رکھ سکتا۔
وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ کھاتا پیتا، گھر میں رہتا، کبھی کوئی ضرورت ہوتی تو پوری ہو جاتی۔ اسے اپنے والدین سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ الٹا، ان کی موجودگی اس کے لیے ایک ایسی نعمت تھی جس کا احساس اسے اکثر رات کے آخری پہر ہوتا، جب گھر کے سب لوگ سو جاتے اور وہ اپنی زندگی کے حساب کھول کر بیٹھ جاتا۔
اسے شرمندگی ہوتی کہ پچیس برس کی عمر میں بھی وہ ان کے سہارے ہے۔
پھر وہ خود کو سمجھاتا کہ ہر انسان کا وقت الگ ہوتا ہے۔
لیکن دل کوئی فرمانبردار بچہ تو نہیں، جسے ایک بات سمجھا کر خاموش کر دیا جائے۔
کبھی کبھی وہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہنس رہا ہوتا، کسی کی بات کا جواب دے رہا ہوتا، بالکل معمول کے مطابق۔ کسی کو اندازہ نہ ہوتا کہ اسی لمحے اس کے ذہن میں کتنے دروازے کھل رہے ہیں، کتنے بند ہو رہے ہیں۔ کچھ خیالات ایسے بھی تھے جنہیں وہ خود سے بھی چھپانا چاہتا تھا۔ اس کی ذہنی کیفیت نے اس سے بہت کچھ چھین لیا تھا، مگر سب کے سامنے مضبوط رہنے کی عادت اب اس کی شخصیت کا حصہ بن چکی تھی۔
لوگ اسے حوصلہ مند سمجھتے تھے۔
وہ جانتا تھا کہ بعض اوقات آدمی حوصلہ مند نہیں ہوتا، صرف اپنے بکھرنے کا تماشا نہیں بنانا چاہتا۔
اس کے باوجود اس کا اللہ سے تعلق قائم تھا۔
وہ نماز پڑھتا، سجدے میں جاتا، اپنے رب سے باتیں کرتا۔ کبھی اپنی ضرورتیں بیان کرتا، کبھی خاموش رہتا۔ اسے اللہ پر یقین تھا۔ وہ مایوس نہیں تھا، لیکن اس کے اندر ایک سوال بار بار سر اٹھاتا تھا کہ یقین کی آخر کتنی منزلیں ہوتی ہیں؟
کیا یقین صرف یہ ہے کہ آدمی اللہ سے مانگتا رہے؟
یا یہ بھی یقین ہے کہ آدمی مانگنے کے بعد اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر بھی اپنے رب کے بارے میں بدگمان نہ ہو؟
وہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں جانتا تھا۔
اس کی عجیب حالت یہ تھی کہ بعض خواہشیں پوری ہو جاتی تھیں۔ کبھی کوئی ایسی چیز مل جاتی جس کی اسے مدت سے چاہ تھی، کبھی کسی پریشانی کا راستہ نکل آتا، کبھی کوئی ایسا لمحہ میسر آ جاتا جس میں دل واقعی خوش ہو جاتا۔ تب اسے احساس ہوتا کہ وہ جس رب سے مانگ رہا ہے، وہ اسے محروم نہیں رکھ رہا۔
مگر زندگی کا بڑا سوال اپنی جگہ موجود تھا۔
روزگار، مستقبل، اپنی شناخت، اپنے والدین کے لیے کچھ کر گزرنے کی خواہش۔
وہ سوچتا، جب اللہ چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کر رہا ہے تو کیا میں اپنی بڑی خواہش کے انتظار میں اس کی دی ہوئی نعمتوں کو بھول رہا ہوں؟
پھر اسے اپنے ہی خیال پر شرمندگی ہوتی۔
وہ ناشکرا نہیں بننا چاہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے پاس بہت کچھ ایسا ہے جو شاید کسی دوسرے کی پوری زندگی کی دعا ہو۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ نعمتوں کا اعتراف کرنے سے انسان کی اپنی تکلیف جھوٹی نہیں ہو جاتی۔
ایک رات نماز کے بعد وہ دیر تک جائے نماز پر بیٹھا رہا۔
اس نے کوئی لمبی دعا نہیں کی۔ بس اتنا کہا:
’’یا اللہ، مجھے معلوم ہے کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میں تجھ سے چھپا ہوا نہیں ہوں۔ مگر میں خود کو سمجھا نہیں پا رہا۔ مجھے راستہ دکھا دے، یا کم از کم اتنی ہمت دے کہ راستہ نہ دکھائی دینے پر بھی میں چلنا نہ چھوڑوں۔‘‘
وہ اٹھا، پانی پیا اور اپنے کمرے میں آ گیا۔
اگلی صبح زندگی ویسی ہی تھی۔
نہ کوئی خوش خبری آئی، نہ کوئی دروازہ اچانک کھلا، نہ اس کے تمام مسائل حل ہوئے۔ گھر میں وہی آوازیں تھیں، وہی معمول، وہی ادھورے کام۔
لیکن اس دن اس نے پہلی بار اپنے خالی وقت کو اپنی ناکامی کا دوسرا نام دینے سے انکار کر دیا۔
اس نے ایک کاغذ نکالا اور لکھا کہ آج وہ کیا کر سکتا ہے۔ فہرست بہت بڑی نہیں تھی۔ چند کام تھے، چند کوششیں، اور ایک ایسا قدم جسے اٹھانے سے وہ کئی دنوں سے گھبرا رہا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ یہ سب کرنے سے کامیابی کی ضمانت نہیں ملتی۔
پھر بھی اس نے آغاز کیا۔
شاید اس کی زندگی کا وقت رکا نہیں تھا۔ شاید وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں آگے کا راستہ اس کی نظر سے اوجھل تھا۔ اور شاید یہ بھی ممکن تھا کہ اس انتظار کو کوئی خوب صورت انجام نہ ملے، کم از کم اس طرح نہیں جس طرح وہ چاہتا تھا۔
اس نے پہلی بار ان تمام امکانات کو ایک ساتھ قبول کرنے کی کوشش کی۔
وہ پچیس برس کا نوجوان اب بھی اپنے ماں باپ کے سہارے تھا۔ اب بھی اس کے ذہن میں الجھنیں تھیں۔ اب بھی وہ سجدے میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا تھا اور اب بھی اس کے پاس اپنے مستقبل کا کوئی یقینی جواب نہیں تھا۔
مگر اس نے اپنے آپ کو ناکام قرار دینے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ یقین کی کس سیڑھی پر ہے۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کے اندر سوال موجود ہیں، اور ان سوالوں کے باوجود وہ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے۔
شاید اسے ابھی منزل نہیں ملی تھی۔
لیکن اس نے راستے سے اپنا تعلق ختم نہیں کیا تھا۔
اور فی الحال، اس کے پاس یہی تھا۔
یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔
