Type Here to Get Search Results !

وقت اگر نہیں سنتا: صدمے اور ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کا راز | نور ابراہیمزندگی ٹھہرتی نہیں، ہم ٹھہر جاتے ہیں: ماضی کے زخموں کو سیڑھی کیسے بنائیں؟

مگر وقت "اگر" نہیں سنتا

وقت اگر نہیں سنتا: صدمے کے بعد آگے بڑھنے کا راز | Post-Traumatic Growth


وقت جب گزرتا ہے تو راستے میں لمحات کے پتھر آتے ہیں، وہ رکتا نہیں، وہ گزر جاتا ہے۔ ایک دن ختم ہوتا ہے، رات آتی ہے، پھر صبح؛ وقت کسی کے غم میں نہیں رکتا۔

ہم انسان لمحوں کے پتھر سے ٹھوکر کھا کر گر جاتے ہیں۔ ایک ناکامی، ایک غلط فیصلہ، ایک رشتہ جو ٹوٹ گیا، ایک خواب جو ادھورا رہ گیا، اور ہم سمجھتے ہیں زندگی وہیں ٹھہر گئی۔ ختم ہو گئ حالانکہ زندگی ٹھہری نہیں، ہم ٹھہر گئے۔

ہماری نفسیات کی ٹیچر نے ہمیں پڑھایا تھا کے نفسیات میں اسے Post-Traumatic Growth  کہتے ہیں... یعنی صدمے کے بعد ٹوٹ کر بکھر جانے کے بجائے، اس درد کو سمجھ کر آگے بڑھنا۔ ماضی کو مٹانا نہیں، ماضی سے سیکھ کر حال کو سنوارنا۔

 تخلیقِ کائنات کے سب سے بڑے معلم حضرت محمد ﷺ نے ہمیں یہی تعلیم دی احد میں زخم آئے، صحابہ شہید ہوئے، مگر آپ ﷺ نے میدان چھوڑا۔۔۔؟ نہیں، صبر کیا اور آگے بڑھے۔ صلح حدیبیہ میں شرائط سخت تھیں، مگر آپ ﷺ کی حکمتِ عملی نے ثابت کیا کہ وہ بظاہر سخت شرائط دراصل فتح کا دروازہ تھیں فتح مبین سب سے بڑی فتح کا

وقت مشکل ہے مگر مشکل دیکھ کر رکنا نہیں ہے،

اس کے ساتھ ساتھ چلنا سیکھنا ہے۔

جو گزر گیا، اسے سینے سے لگا کر بیٹھ جانا آسان ہے یقین کریں بہت آسان ہے 

مگر جو آ رہا ہے، اس کا استقبال اس کا welcome کرنا بہت  ہمت کا کام ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: "اگر وہ دن ایسا نہ ہوتا میں یہ فیصلہ نا لیتا تو وقت ایسا نا ہوتا ..." مگر وقت "اگر" نہیں سنتا۔ وہ اپنی رفتار سے بہتا ہے۔ ہمیں اپنی رفتار اس کے ساتھ ملانی ہے۔ زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے، مگر وقت کے ساتھ  زخم بھر ہی جاتے ہیں

آج اگر کوئی پتھر راستے میں ہے، تو اسے دیوار بنا کر بیٹھ نہ جائیں؛ اسے سیڑھی بنا لیں۔ گریہ جائز ہے، رونا ہے تو رو لیں مگر گریہ میں عمر ضائع کرنا جائز نہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے وقت کو قسم بنا کر کہا: "والعصر، إن الإنسان لفي خسر"۔ یعنی وقت گواہ ہے، اور انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک کام کیے، حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت کی۔

تو رکنا نہیں ہے بس۔۔ ٹوٹ گئے ہیں تو جوڑیں خود کو ۔ گر گئے ہیں ، تو اٹھیں۔ ماضی کو قبر میں دفن کر دیں  وقت بہتا ہے، رہتا نہیں خوش رہیں گرم چائے پئیں صبحِ صادق کو دیکھیں اور ایک ایسی زندگی کا تصور رکھیں جس کی بہار کو کوئی زوال نہیں ہوگا 

نور ابراہیم 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.