"سرخ پھول"
آج پیر کا دن تھا. سورج کی دھوپ کھڑکیوں سے چھن کر داخل ہورہی تھی. معمول کے مطابق سارہ کی آنکھ سات بجے کھلی
وہ ایک چوبیس سالا لڑکی تھی جو ایک آفس جاب کرتی تھی. اس کا فلیٹ کافی پرسکون تھا. وہ اس کے کام خود کیا کرتی تھی. پندرہ منٹ تک وہ فریش ہو کر کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی.
کل کا بچا کھانا اور ساتھ چاۓ...اس کا سکیجوئل ہی اتنا مصروف تھا. اور باہر کے کھانے سے اس کا معدہ اکثر خراب رہتا تھا.
وہ چاۓ لے کر اپنی بالکونی میں آگئی...
مدھم سی ٹریفک کی آواز سنائی دیتی تھی لیکن باقی شہر اس وقت بہت خاموش تھا.
اس کی نظر سامنے کے فلیٹ کی بالکونی پر پڑی. وہاں ایک چھوٹا سا گملا موجود تھا اور اس میں خوبصورت سے پھول لگے تھے..
سرخ پھول.. .
ناجانے وہ کون سے پھول تھے وہ نام تو نہیں جانتی تھی لیکن وہ خوبصورت تھے..
سارہ نے ایک نظر اپنی بالکونی میں دیکھا.
کتنی خالی خالی تھی..
اس نے کچھ سوچ کر اپنا فون نکالا..
وہاں کچھ میسج آۓ تھے پر فلحال اس نے انہیں نظر انداز کر دیا.
اس کے ہاتھ گوگل ٹیب میں تیز تیز چل رہے تھے...
"کیا پودے صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں... ؟"
اور کچھ لمحوں میں اس کے سامنے کئی آرٹیکل آ چکے تھے. جن میں واضح تھا کہ پودے, پھول اور قدرت کس طرح زندگی میں مثبت اثر لاتے ہیں...
"شاید مجھے بھی ایک پودے کی ضرورت تھی....؟"
اس نے مسکرا کے سوچا....
ایک گھنٹے بعد وہ کام پر موجود تھی.
یہ بلاشبہ ایک معمولی دن تھا لیکن تھکا دینے والا دن....
گھر جاتے ہوئے اس نے ایک چھوٹے ریسٹوران سے کھانا لیا... اس کی صحت کے لئے باہر کا کھانا اچھا نہیں تھا لیکن وہ ابھی گھر جا کے کھانا نہیں بنا سکتی تھی.
اور بس وہ مس کر چکی تھی.
فٹ پاتھ پر چلتے اس کی نظر ایک دوکان پر پڑی...
پھولوں کی دوکان....
ذہن میں جیسے ایک جھماکا سا ہوا....وہ سرخ پھول ذہن کے پردے پر ابھرے....
پھر اس نے کچھ سوچ کر قدم آگے کی طرف بڑھا دئیے.
کچھ دیر بعد وہ ایک چھوٹا سا خوبصورت گملا لے چکی تھی....
سرخ پھول...
یہ وہی تو نہیں تھے.. لیکن پیارے تھے.
ننھے سے پودے پر دو نازک پھول کھل رہے تھے.
وہ اسے احتیاط سے اٹھا کر چل رہی تھی جیسے ڈر ہو کے خراب نا ہوجائے .
گھر آکر اس نے اسے بالکونی میں رکھ دیا.
اب اس کے پاس بھی پھول تھے....اب یہ فلیٹ کچھ کم ویران لگ رہا تھا.
اگلی صبح اس کے معدے میں درد اٹھ رہا تھا....
یقیناً یہ باہر کے کھانے کی وجہ سے تھا. اسے شاید آج کام کے بعد ڈاکٹر سے اپوئینٹمنٹ لینی پڑتی.
ناشتہ, کچھ دوائیاں کھانے اور پھولوں کو پانی دینے کے بعد وہ تیار ہو کر کام کے لئے چلی گئی..
کام کے بعد وہ مغرب کے قریب ہسپال میں موجود تھی. اسے کچھ دیر انتظار کر نا تھا.
اس کی نظر کوریڈور میں ایک نوجوان پر پڑی وہ ایک کونے میں بنا جاۓ نماز کے سجدہ میں گرا ہوا تھا.
آنکھوں سے آنسو جاری تھے.
وہ کچھ دیر اسے دیکھے گئی...
وہ کیا مانگ رہا ہوگا؟
کیا اس کا کوئی عزیز یہاں داخل تھا ؟
کیا وہ بہت تکلیف میں ہوگا ؟
اگر وہ جو مانگ رہا ہے اسے نا ملا تو ؟
کیا وہ مایوس ہو جائے گا...؟
اس کے ذہن کے پردے پر ایک منظر ابھرا...
"یا اللہ..... یا رب....!...
بس ایک بار.....! ایک بار میری مدد کردیں... "
ماضی کی کربناک یاد....
لوگ کہتے ہیں. . ..دعا مانگو تو اللہ سنتا ہے...
پھر کچھ لوگوں کی دعائیں اتنی خاموش کیوں رہ جاتی ہیں ؟
کیا فرق ہوتا ہے ان لوگوں میں جن کو مانگ کے مل جاتا اور جو مانگتے مانگتے تھک جاتے ہیں؟
"مس سارہ؟"
نرس کی آواز اسے جیسے واپس حقیقت میں کھینچ لائی...
اس کی باری آ چکی تھی...
اگلی صبح بالکونی پر چائے پیتے ہوئے اس نے دیکھا پھول کچھ مرجھائے ہوئے تھے...
جانے کیا ہوا تھا؟
کیا پانی ٹھیک سے نہیں ملا تھا؟
یا دھوپ؟
مٹی تو سہی تھی....؟
اس کی انگلیاں ایک بار پھر گوگل ٹیب پر حرکت کر رہیں تھیں.. .
اسے کوئی حل چاہیے تھا... انٹرنیٹ پر کئی حل موجود تھے.
وہ آفس سے واپسی پر ایک اسٹور سے مختلف سامان لے آئی تھی...
کھاد, پیسٹ اور فنگس کے لئے دوا....
وہ اب اس پودے کا زیادہ خیال رکھنے لگی تھی اور اگلے دو دن تک وہ بہتر ہو چکا تھا.
وہ اسے دیکھ کر مسکرا دی
"اچھا بچہ...."
وہ پودا اس کے لئے بچے جیسا ہی ہو چکا تھا.. اس کے چھوٹے سے گھر کا دوسرا فرد...
وہ اسے پانی ڈالتی, بالکونی میں بیٹھتی...
زندگی ویسے ہی تھی لیکن کچھ بہتر تھی.
اتوار کے دن اس نے بالکونی کی صفائی کرنے کا سوچا. ریلنگ کی صفائی کے دوران اس کا توازن بگڑ گیا. خود کو گرنے سے بچانے کے لئے ریلنگ کو پکڑنا چاہا لیکن آہ....
ہاتھ گملے میں لگا اور وہ گر کر ٹوٹ چکا تھا.
اسے کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیا ہوا ہے....
پھر جب آئی تو جلدی سے اسے اٹھایا....
اس کے پاس دوسرا گملا تو نہیں تھا...
وہ جلدی میں ایک کارڈ بورڈ کا ڈبا ہی ڈھونڈ پائی جس میں پودا ڈال پاتی.
لیکن وہ سوکھ چکا تھا.....
وہ کچھ دیر اسے ہی دیکھتی رہی...
اسے دکھ ہو رہا تھا....
ہاں صرف ایک پودے کے لئے.....
وہ اتنا قیمتی تو نا تھا....
وہ اور بھی لے سکتی تھی لیکن....
وہ یہ پودا تو نہیں ہوسکتا تھا...
سارہ نے اتنے دن اسے پانی دیا تھا....
اس کا خیال رکھا تھا.....
اسے کھاد ڈالی تھی...
اس میں دوائی ڈالی تھی...
اور وہ اب گر کر ٹوٹ چکا تھا.....
جسے آپ نے لگایا ہو, جس کا آپ نے خیال رکھا ہو اس کے لئے دکھ تو ہوگا ہی نا.....
ذہن میں دوبارہ جھماکا سا ہوا. ..
ہسپتال کے کاریڈور میں سجدے میں گرا ہوا نوجوان ایک بار پھر اسے یاد آیا...
اپنی نا قبول ہوئی دعائیں...
اللہ سے فاصلہ....
"اگر ایک معمولی سا پودا جسے میں نے چند دن پہلے لیا, مجھے اتنا عزیز ہو سکتا ہے....تو اُس ہستی کے لئے اس کی مخلوق کتنی عزیز ہوگی جسے اس نے پیدا کیا....؟"
ہماری پچھلی تحریر 'آپکی عزت' بھی ضرور ملاحظہ کیجیے گا
کچھ دن بعد....
سارہ کی زندگی ویسے ہی تھی.
اس نے نئے پھول لے لۓ تھے...
سرخ پھول...
لیکن ایک فرق یہ تھا کہ اب وہ واپس اپنے رب سے مانگنے لگی تھی.. .
چھوٹی , بڑی, ہر طرح کی چیزیں...
اور اس بار جب اس نے مانگنے کے لئے ہاتھ اٹھاۓ تو اسے سرخ پھولوں نے بھی دیکھا تھا.
انیسہ