حوا کے لبوں سے وہ دعا نکلی جو عشقِ حقیقی اور پاکیزہ محبت کی بنیاد بن گئ
”اے اللہ! جس کے لیے تو نے مجھے تخلیق کیا، جس کی رفعت و قربت کے بغیر یہ پوری کائنات میرے لیے ایک بے جان اور ویران صحرا ہے، مجھے اس سے ملا دے۔ اس تنہائی کے اندھیرے کو اس کے ہونے کی روشنی سے منور کر دے
زمین پر اترنے کے بعد کا وہ پہلا دور، جب کائنات کی فضائیں بالکل نئی تھیں، ہوائیں انجان تھیں اور ہر سمت پھیلی ہوئی خاموشی ایک عجیب سا بوجھ لیے ہوئے تھی۔ یہ زمین جنت نہ تھی؛ یہاں مٹی کی تازگی میں تنہائی کا احساس گھلا ہوا تھا۔ آدم علیہ السلام ایک سمت میں تھے اور حوا علیہ السلام میلوں دور، ایک اجڑے ہوئے دشتِ خاموش میں موجود تھیں۔ یہ تاریخِ انسانی کی پہلی اور سب سے طویل جدائی تھی، جہاں فاصلے صرف کلومیٹر کے نہیں بلکہ دو ایسی روحوں کے درمیان تھے جو ازل سے ایک دوسرے کے لیے بنی تھیں، جن کی تخلیق کا مقصد ہی باہم جڑنا تھا۔
جنت کے گلستانوں کے بعد دنیا کے یہ سنگلاخ پہاڑ اور وسیع و عریض صحرا بہت اجنبی لگ رہے تھے۔ حوا نے جب اس نئی دنیا کی وسعتوں کو دیکھا، جہاں نہ کوئی مانوس سایہ تھا اور نہ ہی اپنوں کی موجودگی کا احساس، تو دل کے نہاں خانوں سے ایک دردناک ہوک اٹھی۔ وہ تنہائی جو اس دنیا میں پہلی بار محسوس ہوئی تھی، اتنی شدید تھی کہ آسمان کی نیلگوں وسعتیں بھی سینے پر بوجھ بن کر بیٹھ گئی تھیں۔ زمین کی یہ مٹی قدموں کے لیے نئی تھی، لیکن روح کی پیاس بہت پرانی اور گہری تھی۔ اس بے کراں تنہائی میں، جب شام کا پہلا سایا اترا اور دل کی دھڑکنیں تنہا گونجنے لگیں، تو حوا نے اپنے رب کے حضور جھک جانے کا فیصلہ کیا۔
وہ دشتِ تنہائی کے درمیان، کائنات کے اکیلے پن کو اپنے اندر سموئے کھڑی تھیں۔ ان کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں اور دل میں عاجزی کا سمندر موجزن تھا۔ انہوں نے اپنے لرزتے ہوئے ہاتھ اٹھائے، نگاہیں اس آسمان کی طرف اٹھیں جہاں ستاروں کی جھلملاہٹ اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اوپر کوئی ایسی ذات موجود ہے جو دلوں کے ان کہے بھید بھی جانتی ہے۔ اس مبارک لمحے، وقت کے پہلے سچے آنسو کے ساتھ حوا کے لبوں سے وہ دعا نکلی جو عشقِ حقیقی اور پاکیزہ محبت کی بنیاد بن گئی
"محبت اور فن کے امتزاج پر مبنی ہماری پچھلی تحریر 'آپکی عزت ' بھی ضرور ملاحظہ کیجیے گا
اے اللہ! جس کے لیے تو نے مجھے تخلیق کیا، جس کی رفعت و قربت کے بغیر یہ پوری کائنات میرے لیے ایک بے جان اور ویران صحرا ہے، مجھے اس سے ملا دے۔ اس تنہائی کے اندھیرے کو اس کے ہونے کی روشنی سے منور کر دے۔
یہ دعا محض کچھ الفاظ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسی تڑپ تھی جو زمین سے اٹھ کر عرشِ الٰہی تک جا پہنچی تھی۔ یہ وہ صدا تھی جس نے زمان و مکان کے فاصلوں کو پگھلا دیا، پہاڑوں کو جھکا دیا اور تقدیر کے فیصلوں کو محبت کے دھاگے میں پرو دیا۔ کیونکہ جب کوئی سچے دل سے اپنے رب کے حضور کسی کی مانگ کرتا ہے، تو کائنات کی تمام طاقتیں اس وصال کو ممکن بنانے کے لیے متحرک ہو جاتی ہیں۔ اور پھر وہ دن آیا جب اس پہلی دعا نے جدائی کے تمام حصار توڑ دیے، اور زمین پر دو بچھڑے ہوئے دل ہمیشہ کے لیے ایک ہو گئے۔
از قلم: نور ابراہیم
