دستک
از قلم علشبہ خان
یہ کہانی ہے سر سبز پہاڑوں میں گھرے ایک گھر کی
جو ڈھلوان سے اوپری سائیڈ بنا ہوا ہے اس پاس اور گھر بھی ہیں مگر یہ گھر انوکھا ہے رنگ برنگی بیلوں میں لپٹا، پھولوں سے بنا، خوشبوؤں میں ایسے گھرا جیسے ایک سحر رکھتا ہو
اسکا گھر کے ارد گرد باڑ بنائی گئی تھی جہاں ایک بوسیدہ چھوٹا سا دروازا تھا
اندر داخل ہوں تو مقامی گھر چادروں والا بنا ہوا تھا مگر وہ سب سے مختلف تھا
خاموش مگر کھلا ہوا،
بوسیدہ مگر مہکتا ہوا
آج اس دروازے پر ایک عرصے بعد کسی غیر کے قدم ٹھہرے تھے، وہ پھول حیران تھے، اس اجنبی کو دیکھ کر ۔
ایک عرصے بعد اسکے دروازے پر دستک ہوئی، عام دستک نہیں ایک مخصوص انداز میں کی گئی دستک جو ایک راز تھا ان دونوں کے بیچ جنہیں بچھڑے کئی سال بیت گئے تھے
اندر موجود موجود دستک سن کر کمرے کی جانب بھاگا، کمرے کے کونے میں رکھے پرانے سے صندوق سے ایک چادر نکالی جو مکمل وائٹ کلر کی تھی مگر اسکی کناریوں پر دو نام درج تھے
چادر اوڑھتے وہ بھاگ کر، گرتے پڑتے دروازے تک پہنچی آنکھوں میں چمک تھی مگر دل میں خوف کہ کیا آج بھی میں مایوس پلٹوں گی، ایک بار پھر دروازے پر دستک ہوئی وہی مخصوص انداز، اس نے جھری زدہ ہاتھ دروازے کے ہینڈل کی جانب بڑھائے اور دروازہ ایک آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا
باہر کوئی کھڑا تھا، پیٹھ موڑے
ہمارے پچھلی تحریر سرخ پھول ضرور پڑھیں
سفید چادر میں۔ خود کو کور کیے
ان آنکھوں میں امید تھی، کسی کے لوٹ آنے کی،اتنے سال رائیگاں نا جانے کی، انتظار کے بعد ملاقات کی کئی امیدوں کے جگنوؤں روش تھے ان نیلی مگر بوڑھی آنکھوں میں،
وہ پلٹا مگر وہ نہیں تھا اسکے ہاتھ ڈھیلیے پڑ گئے آنکھیں بجھ گئی ہونٹ خاموش ہو گئے
وہ نوجوان تھا، مگر ہو بہو ویسا جو اسے 30 سال پہلے انتظار کا کہہ کر گیا تھا، دروازے پر کھڑے شخص کو دیکھ کر اسے گزرے دن یاد آگئے جوانی کے دن،کئی عہد کے دن، کئی خواہشوں کے دن
وہ دن جب حمدان علی نے ساری دنیا کے سامنے وجہیہ فراز کو اپنی محبت کی قید میں لیا تھا
اس نے ایک خط آگے بڑھایا جو چند سال پرانا معلوم ہوتا تھا
ان بوڑھی آنکھوں نے امید سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا
بابا نے دیا تھا مگر مجھے یاد نہیں رہا تھا اپکو دینا آپکا پتا اس خط پر تھا مگر میں بھول جاتا تھا
وہ مخاطب تھا سخت لہجے کے ساتھ وہ عکس تھا مگر اس میں نرمی نا تھی
ان بوڑھے ہاتھوں نے وہ خط تھام لیا دروازہ بند ہوا
ذہن کے دریچوں میں کئی باتیں، کئی واقعات رقصاں
ہوئے
محبت ،محبت سے شادی اور شادی سے ان پہاڑوں تک کا سفر یہ واقعات بھلائے نہیں بھولتے تھے
لوگ کہتے تھے نا محرم سے کی محبت رلاتی ہے
میں کہتی ہوں محبت نا محرم سے ہو یا محرم سے بخت سیاہ ہوں تو وہ رلاتی ہی ہے
اور میرے بخت روشن نہیں تھے
آج وجیہہ بن کر کے روئی
ان پہاڑوں میں فقط اسکی اداسی اور آنسو قید تھے
وہ کمرے کی جانب بڑھی
وہ خط اسکے ہاتھ میں ویسا ہی تھا اس نے کھول کر نہیں دیکھا خط اب صندوق کی زینت بن گیا جہاں سے وہ چادر نکالی تھی
اس صندوق میں ایک اور یاد کا اضافہ ہو گیا
انتظار رائیگاں گیا، سال ضائع ٹھہرے
جس نے کہا تھا 50 سال بعد بھی اپنے دروازے پر مجھے پاؤ گی وہ کبھی نا آیا
30 سال بعد اسے احساس ہوا کہ
مرد چھوڑ جائے تو کبھی نہیں پلٹتا
