یہ خط میں بہت کرب میں مبتلا ہو کر لکھ رہی ہوں پچھلے چند روز کے واقعات نے مجھے پریشان کر کے رکھ دیا ہے میں محبت پہ یقین کرنے والی لڑکی نہیں ہوں مگر میں آپ کو دیکھ کر اپ میں کچھ الگ دیکھ کر آپ سے محبت کر بیٹھی ہوں زندگی میں آنے والے معاملات کا حل غصہ یا غلط فہمی پال لینا نہیں ہوتا اسے حل کیسے کرنا یا اس معاملے کے بارے جان لینا ہمارے کئی مسائل کر حل ہوتا ہے انسان کی زندگی تو گزر جاتی ہے مگر ساتھ دینے والے ساتھ رہنے والے انسانوں کا رویہ انسان کو اندر سے چھلنی کر دیتا ہے مجھے بہت دکھ ہوا آپ کو غلط فہمی ہوئی میں اس بات سے معذرت خواہ ہوں مگر میری نیت اللّٰہ تعالیٰ جانتے ہیں میں آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی ہوں آپ بے فکر رہیں جب محبت کی ہے تو یقین بھی پورا رکھیں کیوں کہ ایک عورت ایک ہی شخص کو اپنی پوری دنیا بناتی ہے وہ شخص اسے دکھ دے تو اس کی پوری دنیا اجڑ جاتی ہے اس لیے اے میرے ہم دم میرے سکون قلب ایسے دکھ نہیں دجئیے گا جو میں سہہ نہ پاؤں کوئی اور اس طرح کرے سمجھ بھی اتا ہے مگر آپ ایسا کریں تو بہت دکھ ہوتا ہے میں اپنی روح میں اترے زخم تو نہیں دکھا سکتی ہاں مگر اظہار ضرور کر سکتی ہوں آپ کے اگے کیوں کہ میری جان آپ ہی میری دنیا ہیں آپ بے فکر رہیں جب آپ کے ساتھ زندگی جڑنی ہے تو میں آپ کی ہی ہو کے رہنا چاہتی ہوں کسی اور کا خیال بھی میرے لیے ایسے جیسے یہ دنیا ابھی الٹ جائے مگر اے جان بہار آپ میری دنیا ہیں مجھ پہ شک کرنا اپ کو زیب نہیں دیتا آپ سے مجھے محبت ہے اپ کی چھوٹی سی بھی بات مجھے ایسے جیسے کسی نے پہاڑ گرا دیا ہو اس لیے جتنا ہو سکے شک سے گریز کریں اللّٰہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں مجھے بس اللّٰہ تعالیٰ کا ڈر ہے کہ آپ سے محبت کے دعوے کر کے قیامت والے دن اللّٰہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گی اگر میں کسی اور کے بارے گمان بھی کروں اس لیے بے فکر رہیں اور خیال رکھیں اپنا اور یہ چاکلیٹس آپ کے لیے
بہت شکریہ میری زندگی میں آنے سے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنانے کے لیے
آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔
ہماری پچھلی تحریر "کیا میرے دماغ میں کوئی رہتا ہے؟ لازمی پڑھیں
یہ خط اس نے جیسے پڑھا وہ فوراً سر پکڑ کے بیٹھ گیا جیسے دریا کے کنارے کوئی دور جاتی کشتی کو دیکھتا ہو اور ڈوبتا سورج اس کشتی کے منظر کو منفرد اور دلکش تو بناتا ہو مگر جیسے اس منظر کے پیچھے چھپا ایک اور پہلو بھی نظر آ چکا ہو سورج ڈوب رہا ہے اور ڈوب جائے گا کشتی جا رہی ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جائے گی
کیوں کہ اس خط میں چھپا ایک راز اسے معلوم ہو چکا تھا کہ جو لڑکی اللّٰہ تعالیٰ کے ڈر سے اسکی غیر موجودگی میں بھی اسکی ہی ہے تو وہ سچ بول رہی ہے اور اسے اس پہ شک کر کے اب پچھتاوا ہو رہا تھا
اور وہ دوسری جانب جو چل پڑا تھا فوراً پلٹا واپس آیا وضو کیا اور جائے نماز پہ نماز پڑھی اور سجدے میں گر کے رونے لگ گیا اور یوں وہ بے وفائی سے بچا وہ ایک خط اگر اسے نہ ملتا اور وہ پڑھے بغیر دوسری جانب چل پڑتا جہاں ایک لڑکی اس کا انتظار کر رہی تھی اپنی اس دکان پہ جہاں وہ کام کرتی تھی کہ وہ آئے اور دونوں کہیں چائے پینے چلیں شاید اس لڑکی کے دل میں بھی کچھ جذبات ہوں مگر چونکہ وہ آیا ہی نہیں تو اس لڑکی کو لگا کہ شاید دوسرے لوگوں کی طرح یہ بھی کوئی عام شخص تھا جو مسافروں کی طرح آیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا ان جذبات کو تو قابو میں کیا جا سکتا ہے مگر کسی کو اپنی عادت بنا کے چھوڑ دینا اسے ختم کر دینے کے مترادف ہے اس لیے شاید اللّٰہ تعالیٰ انھیں نکاح کے بندھن میں جوڑنے کے لیے اس مرد کو ہدایت پہ لائے تاکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہتر بن سکیں کبھی کبھی کچھ تکالیف بہترین ہوتی ہیں کہ واپس آ جاؤ ابھی وقت گزرا نہیں اس لڑکے کے آنسوں رک نہیں پا رہے تھے وہ کرب کی اس شدت کو محسوس کر رہا تھا جو کہ کبھی بھی اس نے محسوس نہیں کی تھی احساس ندامت آنسو کرب یہ سب چیزیں ایک ساتھ ہوں تو انسان بہتری کی طرف گامزن ہونے کی پہلی سیڑھی پہ ہوتا ہے وہ ایک خط اس لڑکے کی زندگی بدل گیا
اب شاید ہی اس کے دل میں کسی اور کا خیال گزرے کیوں کہ وہ ایسا مرد بن چکا تھا جو اللّٰہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے اپنی شریک حیات سے بے وفائی نہیں کرتے کیوں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا عورتوں کے بارے میں اللّٰہ سے ڈرتے رہنا اب اسے دنیا سے نہیں اللّٰہ سے ڈرنا تھا اور اس ڈر کی وجہ سے جو کہ اللّٰہ کی محبت پیدا کرنے کی وجہ بنتا ہے مرد کے دل پہلی وجہ جو اسے بے وفائی سے روکتی ہے جو کہ اس کے وفادار بننے کی پہلی سیڑھی تھی اب اگلا سفر تھا صبر کا جو کہ پوری زندگی ایک ہی شخص پہ اکتفا کرنے پہ اسے کرنا تھا اور وہ سفر اس کا انتظار کر رہا تھا کیوں کہ مرد بہت جلد بے زار ہو جاتا ہے کبھی کبھی چھوٹی سی بات پہ اور کبھی بڑی بات پہ بھی خاموش رہتا ہے نبی علیہ السلام کی دوسری حدیث کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ان کے ساتھ گزارا کرو یہ حدیث تب ارشاد ہوئی جب نبی علیہ السلام کے پاس اصحاب اپنی بیگمات سے بد زنی کی شکایت لے کر آئے کیوں کہ جہاں حضرت علی رض اور حضرت فاطمہ رض کی طرح محبت اور نبی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ کی طرح محبت اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہو وہاں دوسری طرف بد زنی کا پہلو بھی ابھر کر سامنے آ جاتا ہے مگر کچھ مرد بد زن نہیں ہوتے وہ ساتھ نبھاتے ہیں پوری عمر جیسا کہ سنت ہے ساتھ نبھانا خیال رکھنا اب کیا وہ اگلا سفر طے کر پائے گا
