رشتہ
حفظہ علی اکبر ( گجرات)
میں اکثر سوچتی ہوں، جب تمہارا رشتہ طے ہوگا نا، تب ہمیں بھی لڑکے والوں کو تمہاری تصاویر دکھانی پڑیں گی۔
وہ ہنستے ہوئے بولیں اور گیلری کھول کر ’’بھابھی‘‘ کے نام سے محفوظ فولڈر تلاش کرنے لگیں۔
میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
میری تصاویر؟ لڑکے والوں کو؟
اور نہیں تو کیا! آج کل تو یہی رواج ہے۔ پہلے تصاویر دیکھی جاتی ہیں، پھر کہیں جا کر رشتہ طے ہوتا ہے۔
وہ نہایت اطمینان سے بولیں، گویا یہ کوئی معمولی سی بات ہو۔
میں جو تجسس کے باعث ایک نگاہ موبائل کی جانب ڈالنے لگی تھی، فوراً نفی میں سر ہلا دیا۔
کبھی نہیں! میں اپنی تصاویر یوں کسی کو نہیں دوں گی۔
وہ میری بات سن کر ہنس پڑیں۔
تمہاری بھی کیا سوچ ہے! اب زمانہ بدل گیا ہے۔ پہلے رشتہ طے ہوتا تھا، پھر تصویریں دیکھی جاتی تھیں، اب پہلے تصویریں دیکھی جاتی ہیں، رشتہ بعد میں طے ہوتا ہے۔
میں نے قدرے سنجیدگی سے کہا
زمانہ بدل گیا ہے تو کیا اپنے اصول بھی بدل دینے چاہیئے؟
وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائیں۔
اور تمہاری یہ باتیں کون سنے گا؟ آخر شادی تو کرنی ہے نا!
میں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی اور تصاویر دیکھنے لگی، مگر دل میں ان کی بات کسی کانٹے کی مانند کھٹکنے لگی۔
وہ میری بہترین استاد ہونے کے ساتھ ساتھ میری اچھی دوست بھی تھیں۔ ماضی کی اسی شناسائی کے سبب بھائی کی منگنی کی خوشی میں مٹھائی لے کر آئی تھیں۔ اپنی بھابھی کی تصاویر دکھاتے ہوئے ازراہِ مذاق کہی گئی ان کی ایک معمولی سی بات بھی جانے کیوں میرے دل پر گراں گزری۔
ہوتا ہوگا، مگر میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔
میرے لہجے میں اس قدر قطعیت تھی کہ وہ ہنستے ہنستے رک گئیں۔ موبائل ایک طرف رکھا اور میری جانب متوجہ ہوئیں۔
اب یہ نہ کہہ دینا کہ اپنی شادی پر بھی نقاب کرو گی۔
ان کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
میں نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
تو کیا نہیں کرنا چاہیے؟
میرے سوال نے انہیں ایک لمحے کے لیے گڑبڑا دیا۔ شاید وہ میرے اس جواب کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔
چند ساعتیں خاموشی سے گزریں، پھر بات کسی اور موضوع کی طرف مڑ گئی،مگر میرے دل میں اٹھنے والا سوال وہیں ٹھہر گیا۔
ہماری دوسری تحریر "وہ ایک خط" ضرور پڑھیں
اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ میرے لیے نا قابلِ برداشت تھا۔ اب وہی موبائل میرے گھر والوں کے ہاتھوں میں گردش کر رہا تھا۔ میرے بھائی، اماں اور ابا بھی اس لڑکی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔ کسی کو اس کی مسکراہٹ بھا رہی تھی اور کسی کو اس کے چہرے کے نقوش۔
وہ میری جانب دیکھ کر کہنے لگیں
تم میری بات سنو، اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لڑکا اگر تصویر دیکھ لے تو آخر اس میں کیا حرج ہے؟
میں خاموش رہی، مگر دل میں ایک سوال مسلسل سر اٹھاتا رہا۔
ہمارا معاشرہ آخر کس روش پر چل پڑا ہے؟
پیاری لڑکیو! حجاب کے جس مقام پر بھی آپ کھڑی ہیں، اپنے ضمیر کی آواز اور اپنے اختیار کردہ موقف کا احترام کیجیے۔ اگر کسی ایک تصویر کے نہ دینے سے کوئی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو ٹوٹ جانے دیجیے۔ جس خاندان نے رشتے کے آغاز ہی میں آپ کی ایک چھوٹی سی خواہش اور شرعی احتیاط کا احترام نہ کیا، وہاں آئندہ اپنی بڑی بڑی خواہشات کے احترام کی امید باندھنا کہاں کی دانائی ہے؟
یاد رکھیے، زندگی کسی ایک مرد پر ختم نہیں ہوتی۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کئی اور دروازے کھول دیتا ہے۔ اپنے اصولوں کی قیمت کسی رشتے کے عوض ادا نہ کیجیے۔
اور ذرا یہ بھی سوچیے کہ آپ اپنی تصویر جسے محض ’’لڑکے کی والدہ‘‘ یا ’’لڑکے کی بہن‘‘ سمجھ کر دے رہی ہیں، اس کے اپنے روابط اور حلقۂ احباب ہیں۔ ایک تصویر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک پہنچتے دیر نہیں لگتی۔ پھر آپ کو کیا خبر کہ وہ تصویر کن نگاہوں سے دیکھی گئی، کن لوگوں تک پہنچی اور کن محفلوں میں زیرِ گفتگو آئی؟
اس لیے اپنی حیا، اپنے اطمینان اور اپنے اصولوں کو معمولی نہ جانیے۔ محض اس خوف سے کہ کہیں رشتہ نہ ٹوٹ جائے، اپنے دل پر وہ بوجھ نہ رکھیے جسے عمر بھر اٹھانا دشوار ہو۔
رشتہ وہی خوب صورت ہے جس کی بنیاد احترام پر رکھی جائے جہاں آپ کے ’’نہیں‘‘ کہنے کے حق کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے جتنی آپ کے ’’ہاں‘‘ کو۔
سو پیاری لڑکیو! اپنے فیصلوں پر ثابت قدم رہیے۔ ہر تعلق کو نبھانے کے لیے اپنی ذات، اپنے اصول اور اپنی حیا کو قربان کرنا لازم نہیں۔ جو شخص آپ کی عزتِ نفس کو سمجھنے کے بجائے آپ سے اپنی خواہش کے مطابق ڈھلنے کا مطالبہ کرے، اسے خوش رکھنے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔
یاد رکھیے، آپ کا سکون قلب کسی انسان سے کم قیمتی نہیں، اور آپ کی حیا کسی کے اصرار کے آگے جھکنے کی محتاج نہیں۔ اپنے لیے وہی راستہ چنیے جس پر چلتے ہوئے دل مطمئن اور ضمیر پرسکون رہے۔
اپنی قدر پہچانیے،ہر وہ رشتہ جو آپ کے اصولوں کی قیمت مانگے، اسے کھو دینا خسارہ نہیں۔ بعض اوقات کسی تعلق سے دست بردار ہونا دراصل اپنی ذات کو بکھرنے سے بچانا ہوتا ہے۔ جو آپ کا حقیقی خیرخواہ ہوگا، وہ آپ کو پانے کے لیے آپ کی حدود نہیں توڑے گا، بلکہ آپ کی حدود کا احترام کرے گا۔
