Type Here to Get Search Results !

معجزاتی شفاء: سوشل میڈیا کا دوست یا رب کا بھیجا فرشتہ؟ لاہور سے سعودیہ تک: ایک خاموش انتظار اور معجزے کی کہانی

فاصلے کاسٹ اور دنیا کی بندشیں ایک طرف جب کوئی شخص بستر مرگ پہ پڑی روح کو بھی اپنی دعاؤں سے کھینچ لائے تو کیا وہ محض ایک سوشل میڈیا کا دوست رہتا ہے یا رب کی بھیجی ہوئی کوئی معجزاتی شفاء؟ 

یہ سوال اکثر مجھے پریشان کرتا تھا کہ لوگ کیوں سوشل میڈیا کو اتنا غلط سمجھتے ہیں میں آخر کار اس سوال کے جواب کو ڈھونڈھنے نکلی

Ek pakistani ladki chat par chai ka cup liye chand ko dekhte hue, Studio Ghibli anime style art


کیا آپ نے کبھی کسی شخص کی خاطر خود کو بدلا ہے اور بدلتے دیکھا کسی کو؟

 تو آئیں میں آپ کو بتاتی ہوں میرا نام رومانہ ہے اور میں لاہور کی مقیم ہوں اور میرے شوہر جو کہ سعودیہ میں ہوتے ہیں، ہماری زندگی کا سفر فیسبک کی دنیا سے ہوا تھا

ہماری پرانی تحریر "مہر کی دعا " ضرور پڑھیں

میں ایک دن کھڑکی میں کھڑی آنے والے کل کے بارے میں فکر مند تھی، جب موبائل پہ ایک نوٹیفکیشن جگمگایا "صاحماہ اسم" کے نام سے میں نے چائے کے کپ کو سائیڈ پہ رکھا، موبائل ہاتھ میں لیتے میں نے اس نوٹیفکیشن کو کھولا مجھے سامنے میرے نام کے مطابق ایک رومانوِی تحریر منسوب کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ میں افسردگی سے نکلوں اور خود کو آسمان کی وسعتوں میں گما دوں کہ ہر دیکھنے والا مجھ پہ رشک کرنے لگے۔ میری عمر کی لڑکیاں تو پنکھ لگاۓ تتلیوں کے سنگ اڑان بھرتی ہیں 


میری آنکھیں بھیگ چکی تھیں کہ میں نے اپنی جوانی کسی غم میں مبتلا کر کے اس سے دغا بازی کر گئی ہوں۔ میں نے بغیر کسی ردِعمل کے، فون کی سکرین کو آف کیا، موبائل رکھا اور پھر چائے کا کپ اٹھائے آسمان کو تکنے لگی۔ میری آنکھیں بنجر زمین پہ گرنے والی بارش جو اسے سیراب کر رہی تھی، ویسے آنسو میرے پورے چہرے کو بھگو گئے۔ آسمان کی طرف دیکھ میں کوئی شکوہ نہیں کر رہی تھی، میں بس شکر کر رہی تھی کہ اے اللہ!


 تو جیسے چاہے مجھے اپنے رنگ میں ڈھالتا جا، کیونکہ میں اتنا کامل یقین رکھتی ہوں کہ جو میری خواہش ہوتی ہے ابھی دل میں ہو بھلے، اللہ اسے پورے کرنے میں مدد کرنے لگتا ہے۔


میں نے چائے ختم کی اور شام کا کھانا بنانے لگی۔ جیسے شام کو موبائل اٹھایا بستر پہ جاتے وقت، تو سامنے سکرین پہ میسج جگمگایا جو کہ ایک "جازم" نام کی آئی ڈی سے آیا تھا: "سلامتی ہو آپ پہ، میں بات کرنا چاہتا ہوں" 


یہ وہ زندگی کا موڑ تھا جہاں اللہ نے میری دعا کو مانگنے سے پہلے پورا کر دیا تھا۔ مجھے ایسا تب نہیں لگا تھا، میں بس نارمل جیسے سب میسج اگنور کرتی ہوں، اس دن نجانے کیوں میں وہ میسج اگنور نہیں کر پائی۔ نہ چاہتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور بستر پہ آرام کرنے لیٹ گئی، کام سے تھکی ہوئی تھی تو نیند کی آغوش میں جانے والی تھی کہ اچانک سے ریپلائی ملا: "کیسی ہیں آپ؟"


ہماری بات شروع ہوئی۔ میری طبیعت ان دنوں بے حد خراب رہتی تھی اور ڈینگو بھی ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے آواز میں تبدیلی اور جسم کا گرم رہنا، چپ رہنا، بولنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ ہر دیکھنے والا کہتا کہ "اسے کیا مرنے کی مٹی لگ گئی جو یہ ایسے ہوتی جا رہی ہے"۔


جازم کے قریب تر جاننے والے جو کہ ان کے چچا زاد بھائی لگتے ہیں، ان سے بات کروانے کا سوچا کہ میں ان کو اپنی نزاع کی حالت بتاؤں تاکہ وہ میری بیماری کا حل تلاش سکیں

شام ہوتے سکرین پہ دو مجذوب ہوئے نمبر دکھائی دیتے ہیں، کال اٹھانے پہ معلوم ہوا کہ جازم اور ان کے چچا زاد بھائی تھے جو کہ سعودیہ میں ڈاکٹر تھے۔ ان سے سلام کے بعد تمام بات ہوئی بیماری کو لے کے، انہوں نے کچھ ٹیسٹ لکھ دیے تھے جو کہ میں پہلے کرا چکی تھی اور میری بہن جو کہ یہاں بڑے ہسپتال میں او ٹی سپیشلسٹ تھی، وہ چیک کرا چکی تھی بڑے ڈاکٹر سے انہوں نے مجھے نہیں بتایا کہ ان رپورٹس میں کیا تھا ایسا جو چھپایا جا رہا تھا۔ میں اپنے ہی گھر والوں سے اپنی بیماری کی وجہ سے دور ہوتی جا رہی تھی، سب مجھے ایک سائیڈ کر کے اپنے کاموں میں مصروفِ زمانہ ہو جاتے۔


میرے بتانے پہ کہ بہن نے رپورٹس پھاڑ کے پھینک دی ہیں اور بتا بھی نہیں رہی کہ مسئلہ کیا ہے، بس اتنا کہا کہ اسے بلڈ سی (blood c) کے سمپٹمز شو ہوئے ہیں، اور یہ بات گھر والوں کو معلوم تھی جبکہ مجھے معلوم ہونی چاہیے تھی۔ میں نے جازم کے چچا زاد بھائی کو یہ واقعہ بتایا جب مجھے معلوم ہوا سب سے چھوٹی بہن سے۔ انہوں نے مجھ سے کچھ علامات پوچھیں کہ ایسے ہوتا ہے کیا آپ کو؟ میں کیا بتاتی کہ میرے سر کے تمام بال جھڑ چکے تھے، آنکھوں میں سفیدی میں آہستہ آہستہ کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی تھی اور گھر والوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔


وہاں جازم اپنے جذبات پہ قابو پائے سب کچھ بنا سوچے سمجھے کرتے جا رہے تھے۔ میں نے پوچھا بھی نہیں کہ وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔ ایک دن جب میں اپنے بابا کو لے کے بہت افسردہ تھی کہ آخری عیام میں نے ان کے ساتھ کیسے گزارا اور اب بیمار ہوں تو کوئی طبیعت پوچھنے والا نہیں ہے، اب جینے کی امید چھوڑ دی ہے میں نے، لیکن اس سے جازم کو تکلیف ہوتی تھی، وہ ڈانٹ دیتے تھے۔ انہوں نے کال بند کی، مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیا جو کہ میرے چیخنے چلانے پہ ہوا۔ میں اکیلی رہنا چاہتی تھی وہاں وہ بھی نہ سو پائے، میسج کرتے رہے لیکن میں موبائل سائیڈ رکھ کر مسلسل زار و قطار رونے میں مصروف تھی۔ میں نے جازم کی کال نہ آئے، اب موبائل کو خاموشی کی حالت پہ کر دیا تھا، روتے روتے کب سو گئی معلوم نہیں پڑا۔


سردیوں کی راتیں شروع تھیں، ٹھٹھرتی ہوئی شام میں چھت پہ چاند کے ہمراہ اپنا چائے کا مگ لے کے نکل پڑی ٹہلنے کے لیے۔ جیسے آسمان کو دیکھتی پھر چائے کاسِپ لیتی، اس دوران میں سیڑھیوں میں بیٹھ گئی، آسمان کو گھورنے لگی۔ آج نہ شکر تھا، نہ شکوہ، نہ شکایت... بہت اندر تک چپ تھی۔ یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ سوچتے سوچتے میری چائے ٹھنڈی پڑ گئی، جبکہ چائے میرا پہلا عشق ہے، میں اسے کبھی نہیں چھوڑا۔


ابھی اتنی دیر تھی کہ موبائل کی سکرین جازم کے نام سے جگ مگ کرتی نظر آئی ۔۔۔

میں نے کال اٹھاتے سلام کرتے خاموشی اختیار کر لی کیونکہ میں کوئی شکوہ نہیں کر سکتی تھی، میرے دل میں کوئی جذبات احساس نہیں تھا 

جازم کافی دفعہ پوچھتے رہے کہ 

"مجھے بات کرنا ہے آپ سے، مجھ سے بات کریں" اور میں مسلسل چپ تھی وہ کبھی ہنستے کبھی چیختے کبھی چلاتے میں خاموشی اختیار کیۓ ہوۓ سنتی جا رہی تھی آخر کار انکا صبر برداشت ٹوٹ گئی وہ رونے لگے وہ پہلے ایسے مرد تھے جو کسی عورت کے لیے ایسے روئے ہوں گے کہ وہ بول نہیں پا رہی، اسے ڈر ہے کھل کے بولنے میں وہ سوچتے رہے رونے لگے 

نیکسٹ تحریر کے لیے انتظار کیجیے 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.