مہر کی دعا
مہر نے ہاتھ اٹھائے۔ آنکھیں بند تھیں۔ آواز ہلکی تھی، لیکن دل بھرا ہوا تھا۔اے اللہ… بس ایک بار۔ اسی بار۔ اس بار اجازت دے دے۔
وہ رات تھی، اور کمرے میں صرف ایک لیمپ جلا ہوا تھا۔ دیوار پر اس کا سایہ لرز رہا تھا، جیسے وہ خود۔ سامنے میز پر وہ پرانی ڈائری رکھی تھی، جس میں اس نے اپنے سارے خواب لکھے تھے۔ اور پہلے صفحے پر، کالے مارکر سے ایک جملہ لکھا تھا:
”میں نے ایک دن اس شہر سے جانا ہے۔
پانچ سال ہو گئے تھے۔
پانچ سال میں اس نے چار بار فارم بھرا، تین بار انٹرویو دیے، اور دو بار جواب ملا جس نے کہا افسوس، آپ کی سلیکشن نہیں ہوئی
ہر بار وہ نئی امید لے کر اٹھی ہر بار وہ نئی دعا لے کر بیٹھی۔
اور ہر بار وہ اسی جگہ واپس آ گئی۔
اماں اسے دیکھ کر کہتیں بیٹا، کچھ چیزیں دیر سے ملتی ہیں، مگر اچھی لگتی ہیں۔
وہ ان کے سامنے ہنستی، مگر اندر سے ٹوٹ کر رہے جاتی
اماں، آپ ہر بات میں امید کیسے ڈھونڈ لیتی ہیں؟
کیونکہ میں نے بھی تمہاری عمر میں چیزیں مانگی تھیں، بیٹا۔ اور اللہ نے مجھے دیں۔ بس جب دینا چاہا، نہ کہ جب میں نے مانگا۔
وہ سر ہلا کر چپ ہوگئی
مگر مانگنا چھوڑا
ایک رات اس کی سہیلی ثنا نے فون پر کہا:
مہر، تمہیں پتا ہے زویا کو وہ اسکالرشپ مل گئی؟ وہی جو تم نے بھری تھی۔
مہر خاموش رہی۔
مہر؟
اچھا…ہاں اچھا ہوا۔
اس نے فون رکھ دیا اور دیوار کی طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔
اس رات اس نے دعا نہیں کی اللہ سے ناراض ہو گئ پہلی بار صبح اٹھی، تو آسمان پر بادل تھے۔ اس نے کھڑکی کھولی اور باہر دیکھا۔ سامنے والے گھر سے کسی کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔ دور کسی کے گھر سے کھانے کی خوشبو آ رہی تھی۔ اور وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، ایک ہاتھ میں پرانی ڈائری، دوسرے میں وہ آخری انکار کی میل اس نے میل ڈیلیٹ کر دی اور رونے لگی
اچانک اماں نے آواز دی
بیٹا، ناشتہ کر لو۔ وہ رونے لگی۔اماں، میں نے سب کچھ کر لیا۔ ہر چیز۔ دعا، محنت، صبر۔ پھر کیوں؟ نہیں سنا اللہ نے زویا کو وہ سکالرشپ ملا گیا مجھے نہیں وہ تو بہت امیر ہے اس کے تو ابا بھی ہیں ۔یں تو یتیم تھی اللہ کو میرا خیال کیوں نہیں آیا۔اور وہ زار و قطار رونے لگی
اماں اس کے پاس آ کر بیٹھیں پیار سے اس کے آنسوں صاف کیے اور کہا
بیٹا، ایک بات سنو۔
مہر، جی
میں تمہارے نانا کے ساتھ حج پر جانے کی دعا کرتی رہی۔ پانچ سال ہر دن ہر رات۔ لیکن تمہارے نانا بیمار ہو گئے۔ حج نہ ہو سکا۔ میں نے اللہ سے پوچھا: یا اللہ، یہ کیا ہوا؟ میں نے اتنی دعا کی تھی۔
مہر رک گیا اور توجہ سے سننے لگی پھر اماں ؟
اماں نرمی سے مسکرائی اور کہنے لگی۔پھر چھ سال بعد، تمہاری نانا کی وفات کے بعد، مجھے ایک خواب آیا۔ خواب میں تمہارے نانا مسکرا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: تمہاری دعا قبول ہو گئی تھی، بیٹی۔ بس شکل بدل کر۔ تم میرے ساتھ حج پر جانا چاہتی تھی لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا اس نے تمہیں زیادہ سے نوازنا تھا تم نے میری چھ سال خدمت کی۔ اللہ پاک کے ہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے
مہر کی آنکھیں بھر آئیں۔
کیا مطلب اماں...
مطلب یہ کہ ہم دعا میں ایک راستہ مانگتے ہیں۔ اللہ ہمیں ایک سفر دیتا ہے۔ ہم ایک دروازہ مانگتے ہیں۔ اللہ ہمیں پورا گھر دیتا ہے۔
مہر نے بھری ہوئی آنکھوں سے اماں کی طرف دیکھا اور آنسوں صاف کر لیے
اور پھر، ٹھیک اسی ہفتے، وہ ہوا جس نے سب بدل دیا۔
اماں مہر کی اماں بیمار ہو گئیں
پہلے ہلکی سی کھانسی، پھر بخار، پھر اسپتال۔ رپورٹ آئی تو مہر کے ہاتھ کانپ گئے۔ اور اس کے بعد جو وقت گزرا، وہ مہر کی زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا
دن میں اسپتال، رات مںں اماں کے پاس ان کی خدمت کرتی ہوئی ان کا ہاتھ پکڑ کر تسلی دیتی ہوئی
کھانا بنانا، دوائیں دینا، ڈاکٹر سے بات کرنا، رپورٹس لانا وہ اندر سے بہت ڈر گئی لیکن ہمت کر کے اماں کی خدمت کرتی رہی پھر ایک رات، اسپتال کے کمرے میں، اماں نے اس کا ہاتھ پکڑا
مہر بہت خوفزدہ ہو گئ
اماں۔ مہر بیٹا…
مہر جلدی سے جی اماں؟
آج اگر تم وہ اسکالرشپ لے کر چلی گئی ہوتیں… تو آج یہاں کون ہوتا؟
مہر کا دل دھک سے رہے گیا وہ خاموش ہو گئی۔
اس کے اندر بہت کچھ ہلا آنکھوں کے سامنے وہی ڈائری، وہی پانچ سال، وہی انکار کی میلز۔ سب ایک پل میں ایک نئی شکل میں سامنے آ گئیں
مہر بھری آنکھوں سے قر بھرے ہوئے دل سے۔
اماں…
بیٹا، تم نے اللہ سے ایک ٹکٹ مانگا تھا۔ ایک چانس لیکن اللہ نے تمہیں ایک موقع دیا۔ بس راستہ بدل کر۔
مہر نے اماں کے ہاتھ کو ماتھے سے لگایا اور پہلی بار، پانچ سال بعد، اس نے دل سے تسلیم کیا
ی اللہ… تُو نے مجھے بچا لیا۔ میں تو جانتی ہی نہیں تھی کہ تُو مجھے کس چیز سے بچا رہا ہے۔ اور کس چیز کے لیے تیار کر رہا اس نے دل و جان سے اماں کی خدمت کی لیکن اماں ایک سال بعد چلی گئیں خدا کے پاس
اُس دن مہر نے اپنی ڈائری کھولی، اور اس کا پہلا صفحہ پڑھا
میں نے ایک دن اس شہر سے جانا ہے۔
وہ ہنسی۔ پھر روئی۔ پھر اٹھی قلم اٹھایا اور نیچے لکھ دیا
میں نے ایک دن اماں کے ساتھ رہنا ہے۔ ان شاءاللہ باقی اللہ کا کام ہے۔
سال گزرتے گئے۔ مہر نے اب وہ چانس نہیں مانگا۔ اس نے ایک اور چیز مانگی
اے اللہ، مجھے وہ راستہ دے، جو تیرے نزدیک لے جائے۔ باقی سب تو بہتر جانتا ہے
اور عجیب بات ہے،اور پھر، اللہ کا نظام حرکت میں آیا۔ جو لڑکی کبھی تنہائی اور محرومی کا شکار تھی، اللہ نے اس کے صبر کا صلہ ایک خوبصورت رشتے کی شکل میں دیا۔ مہر کی زندگی میں حارث آیا۔ حارث، جو نہ صرف ایک بہترین جیون ساتھی تھا، بلکہ اس کے دل کے زخموں کا مرہم بھی۔شادی کے بعد، ایک رات جب مہر اپنے نئے گھر کے کمرے میں بیٹھی تھی، تو اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ حارث اس کے لیے چائے کا مگ لے کر آیا اور محبت سے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولا: ”مہر، تمہاری آنکھوں میں یہ سکون دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ میری برسوں کی دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔“مہر مسکرا دی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، لیکن یہ آنسو غم کے نہیں، شکرانے کے تھے۔ اسے یاد آیا کہ وہ کس طرح ایک ٹکٹ کے لیے روتی تھی، اس شہر سے بھاگنا چاہتی تھی، لیکن اللہ نے اسے اسی شہر میں رکھا، ماں کی خدمت کا موقع دیا، اور پھر ایک ایسا ہمسفر دیا جس نے اسے ملکہ بنا کر رکھا۔اب وہ ایک ادارے میں بھی کام کرتی ہے، جہاں وہ بیماروں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ جہاں لوگ اسے دیکھ کر سکون لیتے ہیں۔ جہاں ایک بچی نے ایک بار اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”آپ اماں جیسی ہیں۔“وہ مسکرا دی۔ اسے اپنی اماں کی بات یاد آئی:ہم دعا میں ایک راستہ مانگتے ہیں۔ اللہ ہمیں ایک سفر دیتا ہے۔“اب جب وہ رات کو دعا کرتی ہے، تو ہاتھ کھول کر مانگتی ہے۔ مگر ساتھ یہ کہتی ہے:”اے اللہ، تو اپنی شان کے مطابق دے۔ میری خواہش چھوٹی ہے، تیرا خزانہ بڑا ہے۔ اور اب اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھیں:
کیا آپ نے کبھی کوئی دعا مانگی اور وہ پوری نہیں ہوئی؟
کیا آپ نے کبھی اللہ سے پوچھا یا اللہ، یہ کیوں نہیں ہوا؟
کیا آپ نے بھی کبھی سوچا کہ شاید اللہ نے وہ دے دیا، مگر شکل بدل کر؟
کیا آپ نے کبھی اپنی زندگی کے کسی انکار کو آج سے دیکھا ہے؟
کیا آپ نے کبھی یہ مانگا ہے کہ اے اللہ، تو اپنی شان کے مطابق دے؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے
ہم دعا میں ایک دروازہ مانگتے ہیں، اللہ ہمیں ایک گھر دیتا ہے۔
ہم ایک راستہ مانگتے ہیں، اللہ ہمیں ایک منزل دیتا ہے۔
ہم ایک لمحہ مانگتے ہیں، اللہ ہمیں ایک عمر دیتا ہے۔
اور وہ انکار، جو آپ کو آج ٹوٹا ہوا لگتا ہے،
شاید کل آپ کی سب سے بڑی حفاظت ہو۔
جو ٹکٹ کبھی نہ بنا،
شاید وہ آپ کو اس سفر سے بچا رہا تھا، جس میں آپ خود کو کھو دیتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی دیر پر صبر عطا فرمائے،
ہمیں اپنے انکاروں میں چھپی رحمت دکھائے،
ہمیں اپنی شان کے مطابق مانگنے والا دل دے،
اور ہمیں ہر راستے پر اپنا قریب رکھے۔
آمین
ہماری پچھلی تحریر "شام" ضرور پڑھیں
نور ابراہیم
