فرض کرو
کبھی میں مل جاؤں
سرِ راہ تمہیں
تو اجنبی مسافر کی طرح
گزر جانا۔
ہوا کے دوش پر اڑتے
میرے آنچل سے
اپنی نگاہیں چرا لینا
مگر ٹھہرنا نہیں۔
فرض کرو
کبھی میری نگری میں
تمہارا گزر ہو
تو یہاں بسیرا نہ کرنا
کہ یہاں کے لوگ
محبت کے حق میں نہیں بولتے ہیں
یہاں محبت کے پھول بھی
مہکنے سے پہلے
مصلوب کر دیے جاتے ہیں
تم ٹھہرے
تو شاید
پرانی کسک پھر جاگ اٹھے
درد کی تہہ میں دبا
کوئی زخم پھر سے رسنے لگے
اور جو محبت
خاموشی سے دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہے
وہ زمانے کی نگاہ میں
رسوا ہوجائے
سو
فرض کرو
کبھی مل بھی جاؤں
تو مجھے پہچاننے کی کوشش نہ کرنا
بس ایک اجنبی کی طرح
میری گلی سے گزر جانا
نہ کوئی صدا دینا
نہ پلٹ کر دیکھنا
کہ جدا ہونا ہی
ہمارا مقدر ہے
حفظہ علی اکبر
ہماری پچھلی تحریر "سوشل انگزائٹی" ضرور پڑھیں
