رہائی
ناول پارٹ
(Ak) از قلم علشبہ خان
تم جانتی ہو میں آدم سے دستبردار کیوں ہوئی؟
پاکیزہ نے پلوشے سے سوال کیا۔
شاید اس لیے کہ اسے تم سے محبت نہیں تھی، وہ تم سے محبت نہیں کرتا تھا۔
پلوشے کے ایسے کہنے پر اسے بے اختیار ہنسی آئی، وہ سر جھکائے ذرا سا مسکرائی، پھر گھٹنوں پہ سر رکھے پلوشے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔
میں آدم سے اس لیے دستبردار نہیں ہوئی کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تھا، پلوشے! محبت میں کبھی آپ یہ نہیں سوچتے، یہ نہیں دیکھتے کہ جتنی محبت ہم کرتے ہیں بدلے میں اتنی ہی ہمیں بھی لوٹائی جائے۔ محبت میں دیا جاتا ہے، محبت لینے کی قائل نہیں ہوتی، یہ کوئی سودا تو نہیں ہے، پلوشے! اگر دونوں طرف سے سب برابر ہو اور اگر ایسا ہو تو وہ محبت نہیں ہوتی۔
پلوشے سوچتی رہی، تو کیا وہ بھی سودا کر رہی تھی؟ وہ بھی تو محبت مانگ رہی تھی، جبکہ وہ خود محبت کی دعویٰ دار تھی، مگر وہ محبت کیسے دیتا؟ وہ تو خود عشق کا قیدی تھا، کسی کے عشق میں ایک عرصے سے قید تھا، جیسے پلوشے سمجھ کر نہ سمجھی۔ وہ جانتی تھی اس شخص نے پاکیزہ کے لیے کتنا انتظار کیا، کتنی قربانیاں دیں، پھر بھی وہ اس کی طلب کر رہی تھی۔
کیونکہ اسے صرف وہ پسند تھا اور سلطان وارث شاہ کو صرف ہمدردی تھی۔
بنا کسی کی دی گئی خوشیوں اور قربانیوں کو دیکھے، وہ صرف اپنی چند دن کی محبت کا روگ لیے بیٹھی تھی، اس کی تکلیف، حالات سے انجان نہیں تھی، اسے بس اپنی فکر تھی، جبکہ محبوب کو دکھ میں دیکھنا آگ میں جلنے جیسا ہوتا ہے۔
محبت یوں تو نہیں ہوتی کہ سب کچھ زبان سے کہہ دیا جائے، محبت کرنے والے تو آنکھیں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ پلوشے کی محبت تھی، وقتی جذبات تھے، جو بعد میں جھاگ کی طرح بیٹھ گئے تھے، مگر ان سب کے باوجود وہ نہیں سمجھ سکی کہ کوئی اس کے عشق میں قید ہے، کوئی اس کا قیدی ہے۔
اور ان سب میں جو سب سے زیادہ تکلیف سے گزرا تھا، وہ آدم تھا، جس کے دل میں پلوشے حیدر براجمان تھی۔
میں آدم سے اس لیے دستبردار ہوئی کہ مجھے اس سے محبت نہیں تھی، میں اس کا بچھڑنا سہہ سکتی تھی اور اگر مجھے اس سے محبت ہوتی بھی تو میں اسے چھوڑ ہی دیتی، کیونکہ اس کا میرا نہ ہونا یہ میرے اللّٰہ کا فیصلہ تھا اور میں کبھی اللّٰہ کے فیصلوں سے انحراف نہیں کرتی۔ میں نے اسے چھوڑا، پلوشے! کیونکہ وہ میرا نصیب نہیں تھا۔
میں اسے کبھی پا ہی نہیں سکتی تھی، کیونکہ اسے اللّٰہ نے میرے نصیب میں نہیں لکھا۔ وہ لاحاصل تھا اور میں کبھی لاحاصل کے پیچھے نہیں بھاگی۔ لاحاصل کے پیچھے بھاگنا گویا ایسا ہے کہ اپنے رب سے دوری اختیار کی جائے اور رب سے دوری روح کی تازگی ختم کر دیتی ہے،
روح بے رونق اور خالی ہو جاتی ہے اور جانتی ہو، جب ایسے ہوتا ہے تو انسان اپنے اللّٰہ کو بھولنے لگتا ہے، جو آپ کی روح کو فنا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اور پلوشے! میں نے اسے چھوڑا، اس کی جگہ میری محبت ہوتی تو میں محبت کو تو چھوڑ سکتی ہوں، محبت سے دستبردار ہو سکتی ہوں، مگر میں اپنی روح کی تازگی ختم نہیں کر سکتی، ورنہ پھر روح سے اٹھنے والی بو آپ کو اللّٰہ سے دور کر سکتی ہے۔ مجھ میں انہیں تو بھولنے کی سکت ہے جنہیں میں چاہتی ہوں، مگر اسے نہیں جو مجھ سے اتنا پیار کرتا ہے کہ میرے سارے گناہوں کے باوجود وہ مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ورنہ جو حالات تھے، یہ بات تو کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی کہ آدم مجھے نہیں ملے گا، مگر وہ مجھے نہیں ملا، کیونکہ یہ میری قسمت تھی اور وہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ جانتی ہو، پلوشے! جو آپ کے نصیب میں ہوتا ہے نا، وہ آپ کو مل کے رہتا ہے، چاہے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں،
اور جو آپ کا نہیں، وہ دھاگے، تعویذوں اور منتوں سے بھی نہیں ملتا۔
اور یہ اللّٰہ کا فیصلہ ہے اور اللّٰہ کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے، انہیں باخوشی قبول کر لینا چاہیئے۔
مجھے اللّٰہ پر یقین ہے، میں نے ہر حال میں صبر و شکر کرنا سیکھا ہے۔
اس کا چہرہ کسی بھی دکھ تکلیف سے خالی تھا، پر سکون۔ وہ سہی کہتی تھی، جو اللّٰہ کو پا لیتے ہیں انہیں کسی کی طلب نہیں رہتی۔
اماں صحیح کہتی ہے، پاکیزہ تمہیں گھٹی میں صبر گھول کر پلایا ہے۔ پلوشہ مسکرا دی۔
پلوشے اسے بتا نہیں سکی کہ واقعی اس کے نصیب میں جو ہے وہ دنیا کے دوسرے کونے میں ہو کہ، بنا اسے دیکھے، بنا یہ جانے کہ وہ کیسی ہے، اس کے عشق میں قید ہے۔
پلوشے کہہ ہی نہ سکی، جو اس کا نصیب تھا اس نے سات سمندر پار رہ کر بھی اس سے ہی محبت کی۔
اسے اب سمجھ آئی کہ اللّٰہ کی رضا کے مطابق خود کو اس میں ڈھالنا اور خود کو اللّٰہ کے حوالے کرنا اور اللّٰہ کے لیے سب چھوڑ دینا اور اللّٰہ سے محبت کرنا، اس کی باتوں پہ جھک جانا کیا ہے۔
اور ایسے کرنے والوں کو اللّٰہ دنیا و آخرت میں اپنی رحمت سے نوازتا ہے اور انہیں بہترین عطا کرتا ہے، ان کے صبر کا پھل دیتا ہے۔
ہمارے پچھلی تحریر مگر وقت "اگر" نہیں سنتا ضرور پڑھیں
مگر اس کے ذہن میں ایک سوال آیا، صبر کیا ہے؟
اس سوال کو وہ زبان تک لے آئی۔
صبر کیا ہے؟ پلوشے نے سوال کیا۔
ہم برداشت کرتے ہیں اور اسے صبر کا نام دے دیتے ہیں۔
ہماری زبان پہ شکوہ آتا ہے، اگر زبان سے کہتے نہیں ہیں تو دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اللّٰہ میں ہی کیوں؟ میرے لیے یہ سب پریشانیاں کیوں؟ پھر ہم تھوڑا حوصلہ رکھ کے کہتے ہیں، ہم صبر کر رہے ہیں۔ لوگ صبر اور برداشت میں فرق نہیں سمجھتے۔
وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بتا رہی تھی۔
تو پاکیزہ، صبر کیا ہے پھر؟
اس نے سر گھٹنوں پہ رکھتے ہوئے سوال کیا، کیونکہ وہ بھی برداشت کر رہی تھی، اسے بھی صبر کرنا تھا، اللّٰہ کا پسندیدہ عمل، جس کا کرنا اللّٰہ کو پسند تھا۔
ہمم، وہ سوچ کر کہنے لگی۔ اس کی نظر سامنے بہتے ہوئے پانی پہ تھی، وہ ہی ندی کنارے آ کے بیٹھ جایا کرتی تھی۔ یہ حصہ لوگوں سے خالی ہوا کرتا تھا، پر سکون سا، دلکش منظر۔ اب تو یہ پلوشے حیدر خان کی بھی پسندیدہ جگہ بن گئی تھی۔
صبر وہ ہوتا ہے، جب ہم خود کو اللّٰہ کی رضا میں ڈھال دیتے ہیں، اس کے فیصلوں پہ سوال نہیں کرتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اللّٰہ نے ایسا کیوں کیا، بلکہ ہم کہتے ہیں، جو بھی ہوا اللّٰہ نے بہتر کیا، بے شک وہ ہر چیز جانتا اور سمجھتا ہے۔ ہمارے دل میں ذرا برابر بدگمانی نہیں آتی، ہم اپنے فیصلے اللّٰہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہمارا صبر یہ ہوتا ہے کہ تمام مشکلات، دکھوں، پریشانیوں کے باوجود ہم شکر، الحمدللہ کہتے رہیں اور اللّٰہ کے فیصلے کا انتظار کریں۔۔۔
پاکیزہ اسے بتا کے خاموش ہو گئی تھی۔
یہ بہت مشکل ہے، کوئی ایسے کیسے کر سکتا ہے؟ شکوہ کرنا انسان کی فطرت میں ہے، پاکیزہ! پھر وہ صبر کیسے کر لیتا ہے؟
پلوشے پانی میں کنکریاں پھینکتے ہوئے سوال کر رہی تھی۔
انسان کر لیتا ہے صبر، مشکل سے ہی، بہت وقت لے کے ہی، مگر انسان صبر کر لیتا ہے، اللّٰہ کے فیصلوں میں سر جھکا دیتا ہے۔ ہاں، یہ ہے کہ انسان کو یہاں تک پہنچتے پہنچتے ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے، بہت کچھ سیکھنا اور جاننا پڑتا، بہت سے چہرے بے نقاب ہوئے دیکھنے پڑتے ہیں۔
انسان پھر اپنی سوچ سے بڑھ کر صبر کر لیتا ہے۔
