سورہ فاتحہ: نماز کا دل
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ قرآن سورہ فاتحہ سے کیوں شروع ہوتا ہے؟
سورہ فاتحہ کو نماز کا دل کیوں کہتے ہیں ؟
...ہم اس سورہ کو دن میں اتنی بار دہراتے ہیں کہ ہم اس کی معنی کے بارے میں سوچتے تک نہیں
یہ ہی انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ کسی چیز سے آشنا ہو جاتا ہے تو وہ اس کے لئے معمولی بن جاتی ہے.
.اپنی بینائی کی مثال لے لیں.
ہماری دوسری پوسٹ " مٹی دے باوے" لازمی پڑھیں
ہم ہمیشہ سے دیکھ پارہے ہیں. ہم روز اٹھتے ہیں, آنکھیں کھولتے ہیں اور دنیا دیکھتے ہیں تو ہمارے لئے دیکھ پانا ایک معمولی عمل ہے. اگر کوئی انسان پہلی بار سورج دیکھتا تو شاید اس پر وہ خوف طاری ہوجاتا جو کہ ناقابل بیان ہے. ایسا ہی کچھ سورہ فاتحہ کے ساتھ ہوا. ہم اسے بچپن سے ہی یاد کر چکے ہیں اور نماز میں کئی بار دہراتے ہیں کہ اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے. .اور میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے پھر سے دیکھیں اور اہمیت کو سمجھیں
سورہ فاتحہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے شروع ہوتی ہے.
کبھی سوچا کہ قرآن کی شروعات ہمیں کوئی حکم دیتے ہوے نہیں ہوتی بلکہ
" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" سے ہوتی ہے.
اس سے پہلے کہ ہم اللہ سے کچھ مانگیں ہم اس کی حمد و ثناء کرتے ہیں.
"الحمدللہ " کا مطلب کیا ہے ؟
اللہ پاک کا شکر کرنا. لیکن یہ اس سے زیادہ گہرا ہے.
جب زندگی میں سب ٹھیک ہو تو الحمدللہ کہنا آسان ہوتا ہے نا لیکن تب کا کیا جب کچھ برا ہوجائے ؟ کیا یہ تب بھی آسان ہے؟ نہیں تب یہ انتہائ مشکل ہو سکتا ہے. لیکن یہاں ہمیں کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے. اللہ کا مشکل وقت میں شکر کرنے سے مراد یہ نہیں کہ چیزیں ہمیں دکھ یا تکلیف نہیں دیتیں لیکن یہ ہے کہ تکلیف میں بھی اللہ کے ساتھ تعلق برقرار رہے.
اب آتے ہیں "رب العالمین " پر.... جہانون کے رب...
رب کی معنی بہت گہری ہے.
رب وہ ہے جو ہمارا خیال رکھتا ہے, رب وہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا. رب وہ ہے جو ہمیں پالتا ہے..
اللہ پاک ایک ایسے خالق نہیں جنہوں نے ہمیں پیدا کیا اور چھوڑ دیا. وہ ہمارے رب ہیں.. وہ وہ ہیں جو اپنی تخلیق کا سب سے زیادہ خیال رکھتے ہیں.
اب آتے ہیں "العالمین " پر...
عالمین عالم کی جمع ہے. بہت سے جہان جنہیں ہم دیکھ سکتے ہیں یا نہیں دیکھ سکتے وہ ان سب کا رب ہے.
"الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ"
بہت رحمدل اور رحم کرنے والا, بخشنے والا اور مہربان...
ہم زندگی میں کتنی بار سوچتے ہیں ناں کہ ہم گنہگار ہیں... اتنا سب غلط کر چکے ہیں اب اللہ کے پاس واپس کیسے جائیں...
"الرحمان احیم " ہمارے لئے ایک امید پیدا کرتا ہے کہ اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے. ایسا اس لئے نہیں کہ انسان بے فکر ہوجا ئے. بلکہ اس لئے کہ اس کے پاس امید ہو کہ وہ واپس جا سکے.
"مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ "
یوم آخرت کا مالک...
ہمیں آخرت کی یاد دہانی کیوں کروائ گئ ؟ کیوں کہ انسان بھول جاتا ہے. وہ بھول جاتا ہے کہ ایک دن اس سب کو فنا ہونا ہے. اسے لگنے لگتا ہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے
ہمارے گریڈ
ہمارہ پیسہ
ہماری ظاہری سخصیت
ہمارے مسائل
ہماری کامیابیان
لیکن یہ سورہ یاد دلاتی ہے کہ ایسا نہیں. ایک دن ایسا بھی آنا ہے جب ہمیں اس سب کا حساب دینا ہوگا. اور اسی لئے اس سے فرق پڑتا ہے کہ ہم یہ زندگی کیسے گزارتے ہیں. ہمارے فیصلے, برتاؤ, عبادت, سب سے فرق پڑتا ہے.
"
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ"
صرف اللہ, ہم صرف اللہ کی ہی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں. ہمیں اللہ کی عبادت کرنی ہے. لوگوں کی نہیں. اپنی خواہشات کی نہیں, دولت کی نہیں, کسی کی نہیں سوائے اللہ کے. اور اللہ سے ہی مدد مانگتے ہیں.
"اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم"
پھر ہم اللہ سے راہ ہدایت مانگتے ہیں. سیدھا راستہ...
وہ نہیں جو ہمیں چاہیے. ہم یہ نہیں کہتے کہ ہماری زندگی آسان کردیں, ہمیں دولت دیں...نہیں.
ہدایت....
کیوں کہ ہدایت سب سے زیادہ اہم ہے.
انسان کے پاس سب ہوسکتا ہے لیکن پھر بھی وہ زندگی میں خود کو کھویا ہوا محسوس کرتا ہے.
ایک انسان کے پاس کچھ بھی نہیں لیکن ہدایت ہے تو اسے معلوم ہے کہ اسے کس کی طرف رجوع کرنا ہے.
"صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ"
ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے اپنی رحمت کی.
"غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ"
نا کہ ان کا جنہوں نے اللہ کو ناخوش کیا.
جانتے ہیں ہم سیدھا راستہ کیوں مانگتے ہیں ؟ کیوں کہ ایمان ایسی چیز ہے جس پر آپ یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ آپ کے پاس ہمیشہ رہے گا. ایک مومن یہ نہیں سوچ سکتا کہ اسے سب علم ہے تو وہ اب محفوظ ہے.
وہ بار بار سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرتا ہے. کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم کھو سکتے ہیں, ہمارہ ایمان کھو سکتا ہے.
اب آئیے شروع سے ایک بار پھر دہراتے ہیں.
ہمارا رب کون ہے؟
اللہ
رحمان کون ہے؟
اللہ
یوم آخرت کا مالک کون ہے ؟
اللہ
کس کی عبادت کرتے ہیں ؟
صرف اللہ کی.
کس سے مدد مانگتے ہیں ؟
اللہ سے.
کیا مانگتے ہیں ؟
راہ ہدایت... سیدھا راستہ
تو جب آپ اگلی بار سورہ فاتحہ پڑھیں تو صرف ذبان سے نا دہرائیں بلکہ دل سے پڑھیں.
