Type Here to Get Search Results !

مٹی دے باوے: روایتی مظلومیت کی نفی یا دو الفا کرداروں کا خوں خوار ٹکراؤ؟ مٹی دے باوے ڈراما کو لے کر ایک الگ ہی طوفان بدتمیزی برپا ہے

 مٹی دے باوے

آج کل سوشل میڈیا پر  مٹی دے باوے ڈراما کو لے کر ایک الگ ہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ کوئی بلو کو  چڑیل کہہ رہا ہے، تو کوئی اسے خون پینے والی دائم😂 قرار دے رہا ہے۔ پبلک جذباتی ہو کر کبھی بالے پر آنسو بہا رہی ہے تو کبھی بلو کی مظلومیت تلاش کر رہی ہے۔ لیکن سچ کہوں؟ مجھے اس پورے ڈرامے میں کسی پر رتی برابر بھی ترس نہیں آیا، بلکہ مجھے تو اتنے عرصے بعد کوئی ڈراما دیکھ کر سچ میں مزا آیا  ہے

"ڈراما سیریل 'مٹی دے باوے' کے اہم کرداروں بالا اور بلو کا ایک غصے اور شدت سے بھرپور تاثراتی انداز، جس میں ان کے درمیان طاقت اور اینگر کی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔"

ہماری دوسری پوسٹ "حکایتیں" لازمی پڑھیں  

آئیے ذرا ٹرولرز کی عینک اتار کر اس ڈرامے کو ایک الگ نظر سے دیکھتے ہیں

لوگ بالے کو بیچارا یا ظالم ثابت کرنے میں لگے ہیں، لیکن میرے لیے بالا کوئی شیر نہیں ہے اور میں اسے شیر کہنا بھی نہیں چاہوں گی، کیونکہ مجھے بھیڑیے پسند ہیں۔ بھیڑیا وہ وحشی جانور ہے جو اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے آخری سانس تک لڑتا ہے اور اپنے قبیلے کے اصولوں اور اقدار کا پکا ہوتا ہے۔ بالا بالکل ایسا ہی ہے۔ وہ کوئی دودھ پیتا بچہ یا روایتی ہیرو نہیں ہے جو دفتر میں بیٹھ کر اینگری ینگ مین بنے وہ اپنے خاندان کی بقا اور اپنی مٹی کی اقدار کا رکھوالا ایک الفا بھیڑیا ہے، جو اپنی حدود میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتا  اور بلو ٹرولرز اسے چڑیل اور خون پینے والی ڈائن کہہ کر رو رہے ہیں کیونکہ ہماری عوام کو ٹی وی پر صرف روتی دھوتی، ساس کے ظلم سہتی ساس بہو مارکہ ہیروئنیں دیکھنے کی عادت ہے۔ بلو نے جیسے ہی اپنے خوں خوار تیور دکھائے، لوگوں کی معصوم حسِ لطیف کو جھٹکا لگ گیا۔ میرے لیے بلو کوئی چڑیل نہیں، بلکہ ایک Female Alpha ہے! اتنے عرصے بعد پاکستانی اسکرین پر کوئی ایسی عورت دکھائی گئی ہے جو اتنی مضبوط، بے خوف اور اپنے ارادوں میں خوں خوار ہے۔ وہ کوئی بیچاری گائے نہیں ہے جسے کوئی بھی ہانک کر لے جائے، وہ اپنی جنگ خود لڑنا جانتی ہے اس ڈرامے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ آپ کو سستی Sympathy بیچنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ کہانی کسی ایک مظلوم کی نہیں ہے، بلکہ یہ دو ایسے کرداروں کا ٹکراؤ ہے جو اپنے اپنے طریقے سے مضبوط ہیں۔ جب دو Alpha آمنے سامنے ہوں، تو وہاں خون تو بہے گا اور چنگاریاں بھی اڑیں گی۔ یہ کوئی عام پریم کہانی یا خاندانی سیاست نہیں ہے، یہ بقا کی جنگ ہے

سوشل میڈیا کے ان جذباتی دانشوروں کے لیے صرف اتنا ہی کہوں گی کہ بھائیوں اور بہنوں اگر آپ کو وہی گھسی پٹی محبت، روتے ہوئے چہرے اور معصوم ہیروئنیں دیکھنی ہیں تو ریموٹ اٹھائیں اور کوئی دوسرا چینل لگا لیں۔ بلو کو چڑیل کہنے والو، خدا کے لیے تھوڑا حوصلہ رکھو! ہر لڑکی نے خوابوں کے شہزادے کا انتظار نہیں کرنا ہوتا، کچھ لڑکیاں اپنی سلطنت خود تباہ یا آباد کرنے کا دم رکھتی ہیں۔ اور رہی بات بالے کی، تو بھیڑیے ہمدردی کے محتاج نہیں ہوتے، وہ شکار کرنا جانتے ہیں

روایتی کہانیاں دیکھ دیکھ کر تھکے ہوئے ناظرین کے لیے مٹی دے باوے  ایک بہترین اور جاندار ڈراما ہے۔ اگر آپ روایتی مظلومیت سے ہٹ کر کچھ کچا، سچا اور خوں خوار دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ ڈراما آپ کے لیے ہی ہے۔ بلو اور بالا کی یہ جوڑی ٹی وی اسکرین پر ایک دھماکہ ہے

نور ابراہیم

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.