دو دن
وہ شہر میں صرف دو دن کے لیے آیا تھا۔
ہماری دوسری تھریر فرض کرو ضرور پڑھیں
پہلے دن اس نے اپنے پرانے دوستوں کو ڈھونڈا۔
دوسرے دن اسے معلوم ہوا کہ پرانے دوست صرف پرانی تصویروں میں رہتے ہیں۔
وہ ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔ دسمبر کی شام تھی اور سردی ہڈیوں میں اتر رہی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سبزی تھی، کسی کے ہاتھ میں بچوں کے لیے کھلونے، اور کسی کے ہاتھ میں وہ موبائل فون جس میں گھر والوں کے پیغامات تھے۔
اس کے ہاتھ خالی تھے۔
وہ مسکرایا۔
"خالی ہاتھ آدمی کو کوئی نہیں پہچانتا۔"
اس نے خود سے کہا۔
پہلے دن وہ اپنے دوست کے گھر گیا۔
دروازہ کھولا تو اندر سے ایک بچہ نکلا۔
"کس سے ملنا ہے؟"
اس نے نام بتایا۔
بچے نے اندر جا کر آواز لگائی:
"ابو! کوئی فقیر آیا ہے۔"
وہ وہیں کھڑا رہا۔
کچھ دیر بعد اس کا دوست باہر آیا۔ پہلے اسے پہچانا نہیں، پھر پہچان کر گلے لگایا۔
"یار! تم؟ کہاں غائب ہو گئے تھے؟"
وہ ہنسا۔
"بس... دو دن کے لیے آیا ہوں۔"
دوست نے گھڑی دیکھی۔
"یار، آج ذرا مصروف ہوں۔ کل آؤ، آرام سے بیٹھیں گے۔"
وہ باہر نکل آیا۔
اگلے دن وہ پھر اسی دروازے پر گیا۔
دروازے پر تالا تھا۔
اس نے پڑوسی سے پوچھا۔
"وہ لوگ کہاں گئے؟"
پڑوسی نے بتایا:
"صبح ہی مری چلے گئے۔ دو دن کی چھٹی تھی نا۔"
وہ کچھ دیر تالا دیکھتا رہا۔
پھر ہنس پڑا۔
"دو دن..."
اس نے آہستہ سے کہا۔
"سب کے پاس دو دن ہیں۔ بس میرے پاس نہیں۔"
شام کو وہ شہر کی اسی گلی میں پہنچا جہاں کبھی اس کا گھر ہوا کرتا تھا۔
گھر اب بھی تھا۔
صرف دروازہ بدل گیا تھا۔
اس نے دروازے پر دستک دی۔
ایک بوڑھی عورت نکلی۔
"کس سے ملنا ہے؟"
اس نے اپنا نام بتایا۔
عورت نے غور سے دیکھا۔
"بیٹا، یہاں تو ہم بیس سال سے رہتے ہیں۔"
وہ خاموش ہو گیا۔
پھر اس نے پوچھا:
"کبھی یہاں ایک عورت رہتی تھی... بہت خاموش سی؟"
بوڑھی عورت نے کہا:
"ہاں، پچھلے مالک کی بیوی۔"
اس کا دل دھڑکا۔
"وہ کہاں ہے؟"
بوڑھی عورت نے بےتکلفی سے جواب دیا:
"مر گئی۔"
وہ جیسے پتھر ہو گیا۔
"کب؟"
"دو دن پہلے۔"
اس نے کچھ نہیں کہا۔
بس دروازے کے پاس بیٹھ گیا۔
بوڑھی عورت اندر چلی گئی۔
وہ رات بھر وہیں بیٹھا رہا۔
صبح ہوئی تو دودھ والا آیا، اخبار والا آیا، اسکول کے بچے آئے، دفتر جانے والے لوگ آئے۔
کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے۔
دوپہر کے قریب ایک لڑکا وہاں سے گزرا۔
اس نے بوڑھی عورت سے پوچھا:
"اماں، یہ بابا کون ہے؟"
بوڑھی عورت نے کندھے اچکائے۔
"پتہ نہیں۔ صبح سے بیٹھا ہے۔"
وہ لڑکا ہنس کر آگے بڑھ گیا۔
وہ اٹھا اور ریلوے اسٹیشن چلا گیا۔
اس کی گاڑی شام کو تھی۔
اس نے ٹکٹ جیب سے نکالا۔
دو دن بعد واپسی۔
وہ ٹکٹ کو دیر تک دیکھتا رہا۔
پھر جیب سے قلم نکالا اور تاریخ کے نیچے ایک لفظ لکھ دیا:
"واپس"
اس نے ٹکٹ پھاڑ کر ریل کی پٹڑی پر پھینک دیا۔
اسی وقت اسٹیشن پر اعلان ہوا:
"مسافروں سے گزارش ہے کہ اپنی قیمتی اشیاء کی حفاظت خود کریں۔"
وہ ہنس دیا۔
اس کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی۔
صرف ایک دل تھا۔
اور وہ بھی دو دن پہلے مر چکا تھا
