تاوان
Rekhta
رات کے گیارہ بجے تھے جب بشیر کے دروازے پر دستک ہوئی۔
بشیر نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں سفید لفافہ تھا۔
’’تمہارا بیٹا ہمارے پاس ہے۔‘‘
ہماری دوسری پوسٹ "دو دن " لازمی پڑھیں
بشیر کے ہاتھ سے دروازے کی کنڈی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔
’’کیا؟‘‘
’’صبح تک پانچ لاکھ روپے پہنچا دو۔ پولیس کو بتایا تو لاش ملے گی۔‘‘
اجنبی نے لفافہ اس کے سینے پر مارا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
لفافے میں اس کے بیٹے کی تصویر تھی۔ تصویر کے پیچھے صرف تین لفظ لکھے تھے:
زندہ چاہیے تو پیسے۔
بشیر ایک معمولی مزدور تھا۔ اس کے پاس نہ زمین تھی، نہ زیور، نہ بینک میں جمع پونجی۔ گھر میں ایک پرانی چارپائی، ٹوٹا ہوا پنکھا اور بیوی کی دوائیوں کے لیے بچائے ہوئے چند ہزار روپے تھے۔
اس نے رات بھر دروازے کے پاس بیٹھ کر گزاری۔
صبح ہوتے ہی وہ گاؤں کے چوہدری کے پاس پہنچا۔
چوہدری نے پوری بات سنی، حقہ ایک طرف رکھا اور افسوس سے سر ہلایا۔
’’بشیر، پانچ لاکھ کوئی چھوٹی رقم نہیں۔ میں مدد تو کرنا چاہتا ہوں، مگر تم جانتے ہو، آج کل حالات کیسے ہیں۔‘‘
بشیر نے ہاتھ جوڑ دیے۔
’’چوہدری صاحب، میرا بیٹا ہے۔ آپ جو کہیں گے، میں لکھ کر دے دوں گا۔ ساری عمر آپ کی زمین پر کام کروں گا۔‘‘
چوہدری نے کچھ دیر سوچا۔
’’اچھا، ایک کام کرو۔ اپنی دو مرلے کی جگہ میرے نام کر دو۔ میں پیسے دے دیتا ہوں۔‘‘
بشیر نے گھر کی طرف دیکھا۔ وہی گھر جس کی چھت اس نے اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی، جس کے صحن میں اس کا بیٹا کھیلتے کھیلتے بڑا ہوا تھا۔
اس نے کاغذ پر انگوٹھا لگا دیا۔
دوپہر تک پیسے مل گئے۔
شام کو پولیس کا ایک سپاہی آیا۔ اس نے بشیر کو الگ لے جا کر کہا، ’’رپورٹ درج کروا دو۔ شاید لڑکا مل جائے۔‘‘
بشیر نے لفافہ دکھایا۔
سپاہی نے اسے دیکھا اور بولا، ’’اچھا، پھر تو معاملہ سنجیدہ ہے۔ لیکن ایک بات بتاؤ، تمہارے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے؟‘‘
بشیر نے چوہدری کا نام لیا۔
سپاہی نے ہنس کر کہا، ’’چوہدری صاحب بڑے نیک آدمی ہیں۔‘‘
اس رات بشیر کو فون آیا۔
’’پیسے تیار ہیں؟‘‘
’’ہاں، میرے بچے کو چھوڑ دو۔‘‘
’’کل صبح پرانی نہر کے پاس آ جانا۔ اکیلے۔‘‘
اگلی صبح وہ پیسے لے کر پہنچا۔ وہاں ایک موٹر سائیکل کھڑی تھی۔ ایک نقاب پوش نے رقم لی، اسے ایک طرف جانے کا اشارہ کیا اور کہا، ’’تمہارا بیٹا گھر پہنچ جائے گا۔‘‘
بشیر نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
’’کم از کم مجھے بتا دو، میرا بچہ زندہ ہے نا؟‘‘
نقاب پوش نے ہاتھ چھڑایا۔
’’تمہیں پیسے واپس تو نہیں مانگنے؟‘‘
بشیر وہیں کھڑا رہ گیا۔
دو گھنٹے بعد اس کا بیٹا گھر آ گیا۔ وہ خوف زدہ تھا، مگر صحیح سلامت تھا۔ بشیر نے اسے سینے سے لگا لیا۔ اس کی بیوی روتی رہی اور محلے والے مبارک باد دینے آتے رہے۔
سب نے کہا، اللہ نے کرم کیا۔
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کرم کی قیمت کیا تھی۔
چند ماہ بعد چوہدری کے آدمی بشیر کے گھر آئے۔ انہوں نے سامان باہر پھینکنا شروع کر دیا۔
بشیر بھاگتا ہوا چوہدری کے پاس پہنچا۔
’’صاحب، یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے تو آپ کے پیسے لے کر واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا!‘‘
چوہدری نے کاغذ میز پر رکھا۔
’’وعدہ؟ تم نے تو گھر میرے نام کیا تھا۔ اب یہ جگہ میری ہے۔‘‘
بشیر کاغذ دیکھتا رہا۔ اس پر اس کا انگوٹھا ثبت تھا۔
وہ باہر نکلا تو اس کا بیٹا دیوار کے پاس کھڑا تھا۔
’’ابا، ہمارا گھر کون لے گیا؟‘‘
بشیر نے اسے سینے سے لگایا اور کچھ نہ کہا۔
اس رات وہ تینوں سڑک کے کنارے بیٹھے تھے۔ بیٹے نے باپ کی انگلی پکڑی اور آہستہ سے پوچھا:
’’ابا، انہوں نے مجھے واپس کرنے کے لیے پیسے کیوں لیے تھے؟‘‘
بشیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اس کے پاس جواب نہیں تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ بیٹے کو اغوا کرنے والے صرف ایک رات کے لیے اسے لے گئے تھے، مگر چوہدری نے اس کے پورے خاندان کا گھر چھین لیا تھا۔
اور اس معاشرے میں چوہدری صاحب آج بھی عزت دار آدمی کہلاتے تھے۔
شاید اصل تاوان وہ رقم نہیں ہوتی جو کسی کی رہائی کے لیے دی جائے؛ اصل تاوان وہ زندگی ہوتی ہے جو کسی کی مجبوری سے وصول کی جائے۔
اصل تاوان کیا ہے؟ ایک دردناک اور سبق آموز اردو افسانہ ایک غریب مزدور اور اس کے بیٹے کی غم زدہ تصویر Rekhta
October 10, 2026
0
Tags
