میرا نام محمدفوزالرسول ہے میں ملتان کا رہائشی ہوں اور اس وقت سعودیہ عمان کی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کررہا ہوں میں نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب میں صرف مصنفین کو پڑھتا تھا بور کبھی کبھار مکالمے لڑتا اور تحاریر لکھ کر اسکول میں دوستوں کو دیتا تھا پھر کزن نے یہ سب دیکھتے ہوۓ لکھنے کا کہا تو تقریباً پانچ سال ہونے کو ہیں میں لکھ رہا ہوں
میں علم کے سمندر میں مقطر سا ہوں
میں سمندر کی موجوں میں اڑتا نظر آتا ہوں
اب میں اپنی تحریر حرف نادار ویب سائٹ کے لیے لکھ رہا ہوں
لکشمی منزل
شہر کے پرانے حصے میں ایک عمارت تھی، جس کی دیواروں پر وقت نے اپنے ناخن گاڑ رکھے تھے۔ اس کے دروازے کے اوپر زنگ آلود حروف میں لکھا تھا:
"لکشمی منزل"
مگر اس عمارت میں نہ لکشمی رہتی تھی، نہ منزل۔
لوگ کہتے تھے، کبھی یہاں دولت کا بسیرا تھا۔ پھر دولت چلی گئی، صرف لوگ رہ گئے۔ اور آدمی جب اپنی چیزیں کھو دیتا ہے تو سب سے آخر میں اپنا چہرہ کھوتا ہے۔
اسلم اسی عمارت کے تیسرے کمرے میں رہتا تھا۔ دن بھر رکشہ چلاتا اور رات کو چھت پر جا کر سگریٹ سلگا لیتا۔ سامنے والے کمرے میں شائستہ رہتی تھی۔ وہ سلائی کرتی تھی۔ محلے والے اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے خاموشی سے کیوں روتی تھی۔
ایک دن لکشمی منزل کے مالک نے اعلان کیا کہ عمارت گرا دی جائے گی۔
"یہ کھنڈر اب کسی کام کا نہیں۔"
لوگوں نے سر ہلایا۔ جیسے وہ خود بھی کسی کام کے نہ رہے ہوں۔
شائستہ نے اپنی سلائی مشین پر ہاتھ پھیرا۔ اسلم نے اپنے رکشے کی ٹوٹی ہوئی گھنٹی بجائی۔ دونوں آوازیں ایک جیسی تھیں—آدھی زندہ، آدھی مردہ۔
"کہاں جاؤ گے؟" شائستہ نے پوچھا۔
اسلم نے ہنسنے کی کوشش کی۔
"غریب آدمی کہیں نہیں جاتا۔ بس ایک چھت سے دوسری چھت کے نیچے منتقل ہو جاتا ہے۔"
وہ ہنسی نہیں۔
آخری رات عمارت میں بجلی چلی گئی۔ سب اپنے اپنے کمروں سے نکل آئے۔ اندھیرے میں پہلی بار سب کے چہرے ایک جیسے لگ رہے تھے۔
نیچے سے ایک بچہ بولا، "امی، لکشمی منزل گر جائے گی؟"
ماں نے کہا، "ہاں۔"
"پھر لکشمی کہاں جائے گی؟"
ماں خاموش ہو گئی۔
کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔
صبح جب بلڈوزر آیا تو لوگوں نے اپنا سامان سمیٹا۔ کسی کے پاس بستر تھا، کسی کے پاس برتن، کسی کے پاس صرف ایک تھیلا۔
شائستہ نے سلائی مشین اٹھائی تو وہ اس سے نہ اٹھی۔ اسلم نے بغیر کچھ کہے مشین اپنے کندھے پر رکھ لی۔
"احسان مت کرو،" شائستہ نے آہستہ سے کہا۔
"احسان؟"
اسلم نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
"جس شہر میں لوگ ایک دوسرے کے زخم اٹھاتے اٹھاتے بوڑھے ہو جائیں، وہاں سامان اٹھانا احسان نہیں ہوتا۔"
بلڈوزر نے پہلی دیوار گرائی۔
گرد اڑی۔
"محبت اور فن کے امتزاج پر مبنی ہماری پچھلی تحریر 'عکسی سایہ' بھی ضرور ملاحظہ کیجیے گا۔"
اور گرد کے اس بادل میں "لکشمی منزل" کے وہ زنگ آلود حروف چند لمحوں کے لیے ہوا میں معلق رہے، جیسے عمارت اپنا نام بچانے کی آخری کوشش کر رہی ہو۔
دیوار گری تو معلوم ہوا کہ اینٹیں اندر سے بھی ویسی ہی تھیں جیسی باہر سے۔
انسان بھی شاید ایسے ہی ہوتے ہیں۔
صرف پلستر الگ الگ ہوتا ہے۔
مصنف : محمدفوزالرسول
