باب اوّل
ایک شہر سے دوسرے شہر تک
کچھ سفر راستوں پر نہیں کیے جاتے۔
کچھ سفر انسان اپنے اندر کرتا ہے اور ان کی منزل کسی نقشے پر نہیں ہوتی۔
حدیث نے بھی ایک ایسا ہی سفر شروع کیا تھا۔
اس رات اس کے کمرے میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ کھلے ہوئے سوٹ کیس میں چند جوڑے، دو تین کتابیں، ایک ڈائری اور وہ پرانی شال رکھی تھی جسے وہ برسوں سے سنبھالتی آئی تھی۔
میز پر پاسپورٹ پڑا تھا۔
اس کے نیچے یونیورسٹی کا داخلہ نامہ۔
اور ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ۔
حدیث نے ڈبہ کھولا۔
اندر کچھ پرانے کاغذ تھے۔
ایک خشک گلاب۔
دو تصویریں۔
اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ جس پر صرف تین لفظ لکھے تھے:
"مجھے معاف کر دینا۔"
حدیث نے کاغذ کو دیر تک دیکھا۔
پھر ہنس دی۔
وہ ہنسی خوشی کی نہیں تھی۔
ایسی ہنسی جو انسان اپنے آنسوؤں سے بچنے کے لیے ہنستا ہے۔
اس نے کاغذ واپس ڈبے میں رکھا۔
کچھ لمحوں بعد پھر نکال لیا۔
یہ اس کی عادت تھی۔
وہ چیزیں پھینکنا چاہتی تھی مگر پھینک نہیں پاتی تھی۔
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔
وہ لوگوں کو بھی ایسے ہی سنبھال کر رکھتی رہی تھی۔
چاہے وہ اس کے دل میں رہنے کے قابل ہوں یا نہ ہوں۔
ارحم بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا۔
نہیں۔
وہ صرف ایک شخص نہیں تھا۔
وہ حدیث کی پہلی محبت تھا۔
اور پہلی محبت اکثر انسان کی زندگی میں کسی موسم کی طرح نہیں آتی کہ گزر جائے۔
وہ گھر کی پہلی خوشبو کی طرح آتی ہے۔
پھر چاہے گھر بدل جائے، شہر بدل جائے، عمر بدل جائے، مگر کہیں نہ کہیں وہ خوشبو رہ جاتی ہے۔
حدیث نے ارحم سے محبت نہیں کی تھی۔
اس نے ارحم کو اپنی زندگی کا مفہوم سمجھ لیا تھا۔
وہ اس کے ایک پیغام پر پورا دن مسکرا سکتی تھی اور ایک خاموشی پر کئی راتیں جاگ سکتی تھی۔
اس نے کبھی مطالبہ نہیں کیا تھا کہ ارحم اسے محبت کرے۔
وہ صرف اتنا چاہتی تھی کہ وہ اسے دھتکارے نہیں۔
مگر شاید بعض لوگوں کے لیے ہماری موجودگی بھی ایک بوجھ ہوتی ہے۔
ارحم جب بھی اسے دور کرتا حدیث خود کو سمجھاتی۔
"وہ مصروف ہوگا۔"
پھر:
"شاید اس کا مزاج ایسا ہے۔"
پھر:
"شاید میں زیادہ توقع کر رہی ہوں۔"
اور آخر میں:
"شاید ایک دن اسے میری محبت سمجھ آ جائے گی۔"
وہ دن کبھی نہیں آیا۔
اس کے بجائے ایک شام ارحم نے بہت سادہ لہجے میں کہا تھا:
"حدیث، تم اچھی لڑکی ہو۔ لیکن میں تمہیں اس طرح نہیں دیکھتا۔"
وہ جملہ بظاہر بہت معمولی تھا۔
مگر کچھ جملے بولنے والے کے منہ سے نکل کر سننے والے کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔
حدیث کی زندگی میں بھی وہ جملہ داخل ہو گیا تھا۔
وہ کئی دن تک سوچتی رہی کہ اس میں کمی کہاں ہے۔
اس نے آئینہ دیکھا۔
اپنی عادتیں بدلنے کی کوشش کی۔
اپنی بات کرنے کا انداز بدلا۔
کپڑے بدلے۔
کتابیں بدلیں۔
یہاں تک کہ اپنی پسندیدہ خوشبو بھی بدل دی۔
مگر ارحم کی نظر نہیں بدلی۔
تب اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم کم ہیں۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جسے ہماری ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
رات کے پچھلے پہر حدیث نے لکڑی کا ڈبہ اٹھایا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
باہر شہر سو رہا تھا۔
اس نے ڈبہ کھولا۔
ایک ایک چیز نکالی۔
پہلی تصویر۔
پھر دوسری۔
پھر خشک گلاب۔
پھر وہ خط۔
وہ سب کچھ ختم کر دینا چاہتی تھی۔
صرف یادیں نہیں۔
وہ لڑکی بھی جو ارحم کے ایک لفظ پر اپنی پوری دنیا بدل دیا کرتی تھی۔
اس نے ڈبہ بند کیا۔
اور فیصلہ کر لیا۔
وہ ترکی جائے گی۔
اس نے خود سے کہا تھا:
"مجھے صرف جگہ بدلنی ہے۔"
مگر دل جانتا تھا
وہ جگہ نہیں بدل رہی تھی۔
وہ اپنے ماضی سے بھاگ رہی تھی۔
---
استنبول کی پہلی صبح بارش میں بھیگی ہوئی تھی۔
جہاز سے اترتے ہوئے حدیث نے کھڑکی کے شیشے سے باہر دیکھا تو اسے لگا جیسے شہر دھند کے اندر سانس لے رہا ہو۔
اس نے پہلی مرتبہ باسفورس کو دیکھا۔
دور پانی پر چلتی کشتیاں۔
پرانے مینار۔
بارش سے دھلے ہوئے راستے۔
اور ایک ایسا شہر جو بیک وقت بہت قدیم بھی تھا اور بہت نیا بھی۔
حدیث نے دل میں سوچا:
"شاید یہاں میں خود کو بھول جاؤں گی۔"
پھر اسے فوراً اپنی ہی بات عجیب لگی۔
انسان خود کو بھولنے کے لیے کہاں جا سکتا ہے؟
وہ جہاں بھی جائے اپنے اندر تو ساتھ لے جاتا ہے۔
اس نے ٹیکسی کی کھڑکی سے سر باہر کیا۔
استنبول کی گلیاں اس کے سامنے کھلتی چلی گئیں۔
کسی دکان کے باہر ترک کافی کی خوشبو تھی۔
کسی کھڑکی میں سرخ پردہ لہرا رہا تھا۔
ایک بوڑھا آدمی اخبار پڑھ رہا تھا۔
ایک بچی بارش سے بچنے کے لیے اپنی ماں کے دوپٹے میں چھپی ہوئی تھی۔
حدیث نے یہ سب دیکھا۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ دنیا واقعی بہت بڑی ہے۔
اتنی بڑی کہ شاید ایک شخص کے انکار سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔
یونیورسٹی کے ہاسٹل پہنچ کر اس نے اپنا سامان کمرے میں رکھا۔
کمرہ چھوٹا تھا۔
ایک بستر، ایک میز، کتابوں کی الماری اور کھڑکی کے باہر دور تک پھیلا ہوا شہر۔
حدیث نے سوٹ کیس کھولا۔
سب سے پہلے کتابیں نکالیں۔
پھر کپڑے۔
پھر ڈائری۔
وہ لکڑی کا ڈبہ آخر میں نکلا۔
حدیث نے اسے میز پر رکھا۔
کچھ دیر تک دیکھتی رہی۔
پھر اسے کھولا نہیں۔
صرف ہاتھ اس پر رکھا اور آہستہ سے بولی:
"اب نہیں۔"
یہ دو لفظ شاید ارحم کے لیے تھے۔
شاید اپنے لیے۔
یا شاید اس محبت کے لیے جس نے اسے برسوں تک اپنے ہی وجود سے دور رکھا تھا۔
اس رات اس نے پہلی مرتبہ ارحم کا نمبر اپنے فون سے حذف کیا۔
نام مٹ گیا۔
نمبر مٹ گیا۔
لیکن عجیب بات تھی
دل میں وہ اب بھی موجود تھا۔
حدیث نے فون بند کیا بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں موند لیں۔
باہر استنبول کی کسی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو رہی تھی۔
وہ خاموشی سے سنتی رہی۔
پھر نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل آیا۔
اس نے اسے انگلی سے صاف کیا اور خود سے کہا:
"یہ آخری آنسو ہے۔"
مگر زندگی نے شاید اسی لمحے اس کے دعوے پر مسکرا کر کہا تھا
نہیں حدیث یہ آخری نہیں۔
کیونکہ بعض کہانیاں ختم کرنے کے لیے انسان شہر بدلتا ہے۔
اور بعض کہانیاں
وہیں سے شروع ہوتی ہیں۔
----+++++++++++----------
استنبول میں حدیث کو آئے ہوئے سات دن ہو چکے تھے۔
سات دن۔
اتنا کم وقت کہ شہر ابھی تک اجنبی تھا اور اتنا زیادہ کہ وہ اپنے اندر کی خاموشی کو پہچاننے لگی تھی۔
صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے وہ اکثر ایک ہی راستہ اختیار کرتی۔ پتھریلی سڑک, سڑک کے کنارے پرانے درخت, چھوٹی چھوٹی دکانیں اور پھر وہ بلند عمارت جس کے دروازے پر ہر روز مختلف زبانیں بولتے ہوئے طالب علم داخل ہوتے تھے۔
حدیث کو یہ منظر اچھا لگتا تھا۔
شاید اس لیے کہ یہاں کوئی اسے نہیں جانتا تھا۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان سے کیوں آئی ہے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ راتوں کو جاگتی ہے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کے فون میں اب بھی ایک ایسا نمبر محفوظ ہے جسے وہ مٹانے کے باوجود دل سے نہیں مٹا سکی۔
یہ اجنبیت اسے سکون دیتی تھی۔
وہ چاہتی تھی کہ یہ شہر اسے بالکل نئے سرے سے پہچانے۔
ایک ایسی لڑکی کے طور پر جس کی زندگی میں کبھی ارحم نام کا کوئی شخص نہیں آیا تھا۔
مگر انسان اپنے ماضی کو جتنا چھپاتا ہے وہ اتنی ہی خاموشی سے اس کے ساتھ چلتا ہے۔
---
اس دن یونیورسٹی کی لائبریری میں معمول سے زیادہ رش تھا۔
حدیث نے اپنے بیگ سے کتاب نکالی اور ایک کھڑکی کے قریب والی میز تلاش کی۔
کھڑکی کے باہر بارش ہو رہی تھی۔
اسے بارش ہمیشہ سے پسند تھی۔
مگر اب بارش اسے پسند آنے کے باوجود اداس کرتی تھی۔
شاید اس لیے کہ ارحم کو بھی بارش پسند تھی۔
حدیث نے فوراً کتاب کھولی۔
"بس۔"
اس نے خود سے کہا۔
"ہر چیز کو اس سے مت جوڑو۔"
وہ پڑھنے لگی۔
کچھ دیر بعد سامنے والی کرسی پر کسی نے آ کر بیٹھنے کی اجازت مانگی۔
حدیث نے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
"جی۔"
سامنے والا بیٹھ گیا۔
وہ شخص تقریباً آدھے گھنٹے تک خاموش رہا۔
حدیث نے ایک صفحہ پلٹا۔
پھر دوسرا۔
پھر اچانک اس کی نظر کتاب کے کنارے پر پڑی۔
ایک چھوٹا سا سایہ اس کی کتاب پر ٹھہرا ہوا تھا۔
اس نے نظریں اٹھائیں۔
ایک نوجوان اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
سادہ لباس ہاتھ میں چند کاغذات اور میز پر کھلی ہوئی ایک پرانی کتاب۔
وہ پڑھنے میں مصروف تھا۔
حدیث نے دوبارہ اپنی کتاب کی طرف دیکھا۔
چند لمحوں بعد اسے محسوس ہوا کہ سامنے والے کی کتاب کے کچھ کاغذ فرش پر گر گئے ہیں۔
وہ جھکی اور ایک کاغذ اٹھا لیا۔
اس پر ترکی زبان میں کچھ لکھا تھا۔
اس نے کاغذ اس کی طرف بڑھایا۔
"یہ گر گیا تھا۔"
نوجوان نے کاغذ لیا۔
"شکریہ۔"
حدیث نے سر ہلا دیا۔
وہ دوبارہ پڑھنے لگی۔
مگر چند لمحوں بعد وہی آواز آئی:
"آپ ترکی سیکھ رہی ہیں؟"
حدیث نے نظریں اٹھائیں۔
"جی۔"
"مشکل لگتی ہے؟"
"بہت۔"
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
"اچھی بات ہے۔"
حدیث نے حیرت سے پوچھا:
"مشکل اچھی بات ہے؟"
"آسان چیزیں انسان کو بدلتی نہیں ہیں۔"
حدیث خاموش ہو گئی۔
وہ شخص پھر اپنی کتاب میں مصروف ہو گیا۔
کچھ دیر بعد حدیث نے پہلی مرتبہ غور سے اسے دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی ٹھہری ہوئی خاموشی تھی۔
جیسے وہ ہر چیز کو جلدی میں دیکھنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہو۔
حدیث نے دل میں سوچا:
"یہ عجیب آدمی ہے۔"
اور شاید یہی اس کی پہلی رائے تھی۔
بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس شخص کا نام عبداللہ تھا۔
---
دوپہر کے بعد حدیث لائبریری سے نکلی تو بارش تیز ہو چکی تھی۔
اس نے بیگ سے چھتری نکالی۔
چھتری کھولی ہی تھی کہ ہوا کے ایک تیز جھونکے نے اسے الٹ دیا۔
حدیث نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی۔
ایک بار۔
دوسری بار۔
تیسری بار۔
چھتری نے جیسے فیصلہ کر لیا تھا کہ آج وہ حدیث کا ساتھ نہیں دے گی۔
وہ جھنجھلا کر بولی:
"یا اللہ!"
پیچھے سے ہنسی کی ہلکی سی آواز آئی۔
حدیث نے پلٹ کر دیکھا۔
وہی شخص۔
عبداللہ۔
وہ چند قدم دور کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں بھی چھتری تھی۔
حدیث نے گھور کر دیکھا۔
"ہنس کیوں رہے ہیں؟"
"میں نہیں ہنس رہا۔"
"ابھی ہنسے تھے۔"
"آپ کی چھتری پر ہنسا تھا۔"
حدیث نے چھتری کی طرف دیکھا۔
"وہ میری ہے۔"
"اسی لیے تو اس پر ہنسا۔"
حدیث پہلی مرتبہ بے اختیار مسکرا دی۔
پھر فوراً سنجیدہ ہو گئی۔
"آپ بہت عجیب ہیں۔"
عبداللہ نے کندھے اچکائے۔
"یہ بات مجھے پہلے بھی بتائی جا چکی ہے۔"
وہ آگے بڑھ گیا۔
حدیث چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔
پھر اپنی چھتری سنبھالی اور دوسری طرف چل پڑی۔
مگر اس کے ہونٹوں پر ایک بہت ہلکی سی مسکراہٹ ابھی باقی تھی۔
اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ سات دنوں میں یہ پہلی مرتبہ تھا جب وہ بغیر کسی پرانی یاد کے مسکرائی تھی۔
---
اس رات حدیث نے اپنی ڈائری کھولی۔
کافی دیر تک قلم کاغذ پر رکھا رہا۔
پھر اس نے لکھا:
"آج استنبول میں ایک عجیب آدمی ملا۔"
وہ رک گئی۔
اس نے لفظ "عجیب" کے نیچے لکیر کھینچی۔
ہماری پچھلی تحریر"ڈپریشن "ضرور پڑھیں
پھر لکھا:
"نام عبداللہ ہے۔"
چند لمحے بعد اس نے یہ جملہ بھی کاٹ دیا۔
"میں اس کا نام کیوں لکھ رہی ہوں؟"
اس نے ڈائری بند کر دی۔
کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔
باہر شہر روشنیوں میں بھیگا ہوا تھا۔
دور کہیں باسفورس کا پانی اندھیرے میں بہہ رہا تھا۔
حدیث نے سوچا:
کیا واقعی انسان ایک نئی جگہ جا کر نئی زندگی شروع کر سکتا ہے؟
اسے جواب معلوم نہیں تھا۔
مگر پہلی مرتبہ اس سوال سے خوف بھی نہیں آیا۔
وہ واپس بستر پر آئی۔
اور اس رات کئی مہینوں کے بعد اسے نیند آنے میں ارحم کی یاد نے نہیں روکا۔
اسے صرف ایک بات یاد رہی—
ایک اجنبی آدمی نے کہا تھا:
"آسان چیزیں انسان کو بدلتی نہیں ہیں۔"
حدیث کو معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی اجنبی شخص اس کی زندگی کا سب سے مشکل سوال بننے والا ہے
.jpg)