Type Here to Get Search Results !

حکایتیں، کردار اور ضمیر کی قیمت: ایک آنکھیں کھول دینے والی کہانی شہر کے پرانے حصے میں ایک بوڑھا کتاب فروش رہتا تھا۔

حکایتیں


شہر کے پرانے حصے میں ایک بوڑھا کتاب فروش رہتا تھا۔ اس کی دکان پر مذہبی کتابوں، قصوں اور حکایتوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ دکان اتنی چھوٹی تھی کہ دو آدمی اندر آ جاتے تو تیسرے کو باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑتا۔

"ایک بوڑھا کتاب فروش اپنی روایتی کتابوں کی دکان پر میز کے پیچھے بیٹھا ہے اور ایک نوجوان گاہک کو حکایتوں کی کتاب دکھا رہا ہے۔"

ہماری دوسری پوسٹ "تاوان" لازمی پڑھیں

بوڑھے کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ وہ ہر آنے والے کو کوئی نہ کوئی حکایت ضرور سناتا۔


ایک دن ایک نوجوان دکان میں داخل ہوا۔ اس نے ایک کتاب اٹھائی اور پوچھا، ’’بابا، ان حکایتوں کا فائدہ کیا ہے؟‘‘


بوڑھے نے عینک اتار کر میز پر رکھی۔


’’آدمی اپنی زندگی سے نہیں سیکھتا، بیٹا۔ اسی لیے دوسروں کی زندگیوں کی کہانیاں پڑھتا ہے۔‘‘


نوجوان ہنس دیا۔


’’تو کیا حکایتیں پڑھنے والا اچھا آدمی بن جاتا ہے؟‘‘


بوڑھے نے جواب نہیں دیا۔ صرف کتاب اس کے ہاتھ میں تھما دی۔


نوجوان نے کتاب خریدی اور چلا گیا۔


وہ شہر کے ایک بڑے تاجر کا بیٹا تھا۔ اس کے والد ہر جمعے کو غریبوں میں راشن تقسیم کرتے، ہر سال حج کرتے اور اپنے دفتر کی دیوار پر لکھوا رکھا تھا:


ایمان داری بہترین پالیسی ہے۔


اسی دفتر میں بیس برس سے ایک بوڑھا ملازم کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ وہ اپنی بیمار بیوی کی دوائیں بھی پوری نہیں خرید سکتا تھا۔ ایک دن اس نے مالک سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی۔


تاجر نے میز پر رکھی حکایتوں کی کتاب بند کی اور کہا، ’’بابا، رزق اللہ دیتا ہے۔ صبر کرو۔‘‘


ملازم سر جھکا کر باہر نکل گیا۔


اسی شام تاجر نے ایک تقریب میں اعلان کیا کہ اس نے ایک یتیم خانے کے لیے پانچ لاکھ روپے عطیہ کیے ہیں۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ تصویریں بنیں اور اگلے دن اخبار میں اس کی سخاوت کی خبر چھپ گئی۔


بوڑھے ملازم نے اخبار دیکھا تو دیر تک تصویر کو گھورتا رہا۔


اس کی بیوی نے پوچھا، ’’کیا ہوا؟‘‘


وہ بولا، ’’کچھ نہیں۔ بس سوچتا ہوں، شاید غربت بھی کوئی گناہ ہے جس کی سزا ہمیں مل رہی ہے۔‘‘


چند دن بعد ملازم کی بیوی مر گئی۔


وہ جنازے کے بعد سیدھا کتاب فروش کی دکان پر آیا۔ اس نے کوئی کتاب نہیں خریدی۔ بس پوچھا، ’’بابا، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی حکایت ہے جس میں نیکی کرنے والے کو اس کی نیکی کا صلہ نہ ملا ہو؟‘‘


عبدالرحمٰن نے بہت سی کتابیں دیکھیں، مگر اسے کوئی جواب نہ ملا۔


ملازم نے کہا، ’’رہنے دو۔ شاید ایسی حکایتیں لکھی ہی نہیں جاتیں۔‘‘


وہ چلا گیا۔


کئی مہینے گزر گئے۔ ایک صبح کتاب فروش نے دکان کھولی تو دروازے کے نیچے ایک لفافہ پڑا تھا۔ اس میں ایک خط اور کچھ پیسے تھے۔


خط میں لکھا تھا:


’’بابا، میں وہی نوجوان ہوں جس نے تم سے پوچھا تھا کہ حکایتوں کا فائدہ کیا ہے۔ میرے والد کی وفات کے بعد مجھے ان کے دفتر کے حسابات ملے ہیں۔ ان میں سینکڑوں لوگوں کی رکی ہوئی تنخواہیں اور غریبوں کے نام پر کیے گئے جھوٹے وعدے درج ہیں۔ میں نے کچھ رقم ان لوگوں کو واپس کر دی ہے۔ باقی ابھی ادا کرنی ہے۔ یہ پیسے اس بوڑھے ملازم کے نام ہیں، جس کی بیوی علاج نہ ہونے سے مر گئی۔ مجھے معلوم ہے، پیسے مردے واپس نہیں لاتے۔‘‘


عبدالرحمٰن نے خط تہہ کیا اور دراز میں رکھ دیا۔


اس روز پہلی بار اس نے دکان کے باہر ایک تختی لگائی:


’’یہاں حکایتیں فروخت ہوتی ہیں، کردار نہیں۔‘‘


شام کو ایک آدمی آیا۔ اس نے تختی پڑھی اور ہنس کر کہا، ’’بابا، کردار بھی کہیں فروخت ہوتے ہیں؟‘‘


بوڑھے نے اسے دیکھا۔


’’ہاں، بیٹا۔ مگر وہاں قیمت پیسوں میں نہیں، ضمیر میں ادا کرنی پڑتی ہے۔‘‘


آدمی نے قہقہہ لگایا، ایک کتاب خریدی اور چلا گیا۔


عبدالرحمٰن نے اسے جاتے دیکھا اور سوچا کہ شاید وہ بھی یہ حکایت کسی کو سنائے گا۔


پھر اسے خیال آیا کہ حکایتیں سنانے سے دنیا نہیں بدلتی۔


دنیا تب بدلتی ہے جب کوئی آدمی کہانی کا کردار بننے کے بجائے اس کا انجام بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.